عربی (اصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أَنَاعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْمَالِكٍ، عَنِالزُّهْرِيِّ، عَنْسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:مَا بَيْنَ لابَتَيْهَا حَرَامٌ"، قَالَ مَالِكٌ: حَرَمُ الْمَدِينَةِ بَرِيدٌ فِي بَرِيدٍ، وَاللابَتَانِ مِنَ الشَّجَرِ وَهُمَا الْحَرَّتَانِ.
انگریزی ترجمہ
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: If I saw gazelles in Madinah, I would not disturb them, for the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "What is between its two lava fields is sacred." Malik said: The Haram of Madinah extends one barid in every direction, and the two lava fields (labatayn) are the two stony tracts (harratayn).
اردو ترجمہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اگر میں مدینہ میں ہرن دیکھوں، تو انہیں نہ چھیڑوں، کیونکہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:«مدینہ کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کا علاقہ حرم ہے۔»امام مالک کہتے ہیں: مدینہ کا حرم چاروں طرف ایک ایک برید (بارہ بارہ میل) ہے۔ لابتان سے مراد دو پتھریلے میدان (حرتان) ہیں۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 510]
