عربی (اصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَاأَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: ثَنَاحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْحُمَيْدٍ، عَنِالْحَسَنِ، عَنْعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَهُمُ الْمَسْجِدَ لِيَكُونَ أَرَقَّ لِقُلُوبِهِمْ، فَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لا يُحْشَرُوا وَلا يُعْشَرُوا وَلا يُجَبُّوا وَلا يُسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ مِنْ غَيْرِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تُحْشَرُونَ وَلا تُعْشَرُونَ وَلا يُسْتَعْمَلُ عَلَيْكُمْ غَيْرُكُمْ، وَلا خَيْرَ فِي دِينٍ لَيْسَ فِيهِ رُكُوعٌ".
انگریزی ترجمہ
Aishah (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (peace be upon him) never refused a beggar.
اردو ترجمہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو ثقیف کا وفد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں مسجد میں ٹھہرایا تاکہ ان کے دل نرم ہوں۔ انہوں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمپر شرط رکھی کہ انہیں جہاد، عشر، اور نماز سے مستثنیٰ کیا جائے، اور ان پر ان کے علاوہ کوئی حاکم مقرر نہ کیا جائے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: تمہیں جہاد اور عشر سے مستثنیٰ کیا جاتا ہے، اور تم پر تمہارے علاوہ کوئی حاکم مقرر نہیں کیا جائے گا، لیکن جس دین میں رکوع (نماز) نہ ہو، اس میں کوئی خیر نہیں۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الزكاة/حدیث: 373]
