عربی (اصل)
حَدَّثَنَاابْنُ الْمُقْرِئِ، قَالَ: ثَنَاسُفْيَانُ، عَنْهَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، عَنْكِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ، قَالَ:" تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: نُؤَدِّيهَا عَنْكَ نُخْرِجُهَا إِذَا جَاءَ نَعَمُ الصَّدَقَةِ، قَالَ: قَالَ: يَا قَبِيصَةُ" إِنَّ الْمَسْأَلَةَ حُرِّمَتْ إِلا فِي إِحْدَى ثَلاثٍ: رَجُلٌ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَهُوَ يَسْأَلُ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكَ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ وَفَاقَةٌ حَتَّى يَشْهَدَ ثَلاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكَ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسْأَلَةِ فَهُوَ سُحْتٌ".
انگریزی ترجمہ
Sahl ibn Sa'd (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "I and the one who sponsors an orphan are like these two in Paradise" — and he indicated his index finger and middle finger.
اردو ترجمہ
سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک ضمانت کی ذمہ داری قبول کی، تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: جب ہمارے پاس زکاة کے اونٹ آئیں گے، تو ہم تمہاری طرف سے اسے ادا کر دیں گے۔ پھر فرمایا: اے قبیصہ! سوال کرنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے جائز ہے:(1)وہ شخص جس نے کسی کی ضمانت قبول کی ہو، اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے، پھر وہ سوال چھوڑ دے۔(2)وہ شخص جس پر ایسی مصیبت آئے جس نے اس کا سارا مال تباہ کر دیا، اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ زندگی کی ضروریات پوری کر لے، پھر وہ سوال چھوڑ دے۔(3)وہ شخص جسے شدید حاجت اور فاقہ ہو، حتیٰ کہ اس کی قوم کے تین عقلمند اس کی گواہی دیں، تو اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ زندگی کی ضروریات پوری کر لے، پھر وہ سوال چھوڑ دے۔ اس کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الزكاة/حدیث: 367]
