عربی (اصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ، قَالَ: ثَنَاوَكِيعٌ، عَنِالْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَمِيعٍ، عَنْجَدَّتِهِ، وَعَنِابْنِ خَلادٍ، عَنْأُمِّ وَرَقَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا غَزَا بَدْرًا، قَالَتْ لَهُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَغْزُو مَعَكَ فَأُمَرِّضُ مَرْضَاكُمْ، وَأُدَاوِي جَرْحَاكُمْ، لَعَلَّ اللَّهَ يَرْزُقَنِي شَهَادَةً، قَالَ:" قَرِّي فِي بَيْتِكِ، فَإِنَّ اللَّهَ سَيَرْزُقُكِ شَهَادَةً"، قَالَ: وَكَانَتْ تُسَمَّى الشَّهِيدَةُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا فِي الْجُمَعِ، فَكَانَ يَقُولُ: اذْهَبُوا بِنَا إِلَى الشَّهِيدَةِ، وَكَانَتْ قَدْ قَرَأْتِ الْقُرْآنَ وَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَنْ يَجْعَلَ فِي دَارِهَا مُؤَذِّنًا فَتُصَلِّي، فَأَذِنَ لَهَا".
انگریزی ترجمہ
Narrated Umm Waraqah (may Allah be pleased with her): When the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) was about to go out for the Battle of Badr, she said to him: O Messenger of Allah, allow me to go out with you so that I may tend to your sick and treat your wounded. Perhaps Allah will grant me martyrdom. He said: "Stay in your home, for Allah will grant you martyrdom." The narrator said: She was called al-Shahidah (the Martyr). The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) used to visit her on Fridays, saying: Let us go to al-Shahidah. She had memorized the Qur'an and asked the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) for permission to have a mu'adhin in her house so that she could pray. He gave her permission.
اردو ترجمہ
سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمجب غزوہ بدر کے لیے جانے لگے، تو انہوں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمسے گزارش کی: اللہ کے رسول! میں بھی آپ کے ساتھ جنگ میں جاؤں گی، مریضوں کا علاج و معالجہ اور زخمیوں کی مرہم پٹی کروں گی، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت نصیب فرما دے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: آپ اپنے گھر میں ہی رہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو شہادت کا اجر عطا فرما دے گا۔ راوی کا بیان ہے کہ ان کا نام ہی شہیدہ پڑ گیا تھا۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمجمعہ کے دن ان سے ملنے جایا کرتے تھے، فرماتے: چلو شہیدہ کے پاس چلیں۔ وہ قرآن جانتی تھیں، انہوں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے اپنے گھر میں مؤذن مقرر کرنے کی اجازت مانگی تاکہ نماز پڑھیں، آپ نے انہیں اجازت دے دی۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 333]
