عربی (اصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثناالنُّفَيْلِيُّ، قَالَ: ثنامُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: ثنييَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْأَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْعَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أَسْرَاهُمْ، بَعَثَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ، وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلادَةٍ لَهَا كَانَتْ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ حِينَ بَنَى بِهَا، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً، وَقَالَ:" إِنْرَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا، وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا فَافْعَلُوا" قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَطْلَقُوهُ وَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا.
انگریزی ترجمہ
Aishah (may Allah be pleased with her), the wife of the Prophet (peace be upon him), narrated: 'When the people of Makkah sent ransoms for their prisoners, Zaynab bint Rasulillah (peace be upon him) sent the ransom for Abu al-'As, and she included a necklace that Khadijah (may Allah be pleased with her) had given her when she married Abu al-'As. When the Messenger of Allah (peace be upon him) saw it, he was deeply moved and said: If you see fit to release her prisoner and return what belongs to her, then do so. They said: Yes, O Messenger of Allah. So they released him and returned her belongings to her.'
اردو ترجمہ
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لیے فدیے بھیجے تو سیدہ زینب بنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بھی (اپنے شوہر) ابو العاص کو چھڑانے کے لیے اپنا وہ ہار بھیجا جو سیدہ خدیجہ رضی الله عنها نے انہیں ابو العاص سے شادی کے وقت دیا تھا۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب وہ ہار دیکھا تو آپ پر اس کی وجہ سے شدید رقت طاری ہوگئی اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس (زینب) کی خاطر اس کے قیدی کو رہا کر دیں اور اس کا مال واپس لوٹا دیں۔ صحابہ کرام نے عرض کی: الله کے رسول! ٹھیک ہے۔ چنانچہ انہوں نے اسے (ابو العاص کو) چھوڑ دیا اور سیدہ زینب رضی الله عنها کا مال بھی واپس کر دیا۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1090]
