عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ إِنِّي أَتَيْتُكَ مِنْ مَدِينَةِ الرَّسُولِ فِي حَدِيثٍ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَمَا جِئْتَ لِحَاجَةٍ أَمَا جِئْتَ لِتِجَارَةٍ أَمَا جِئْتَ إِلَّا لِهَذَا الْحَدِيثِ؟ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ «مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ وَالْمَلَائِكَةُ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ وَإِنَّ الْعَالِمَ يَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ وَالْحِيتَانُ فِي الْمَاءِ وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَأَوْرَثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ»
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu al-Darda' (may Allah be well pleased with him) narrated: A man came to him and said, 'O Abu al-Darda', I have come to you from the city of the Messenger regarding a hadith I was told that you narrate from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).' Hadrat Abu al-Darda' (may Allah be well pleased with him) said: 'Did you not come for trade? Did you not come for any need? Did you come only for this hadith?' He said: 'Yes.' He said: I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: "Whoever treads a path seeking knowledge, Allah will guide him along a path to Paradise. The angels lower their wings in approval for the seeker of knowledge. All those in the heavens and the earth, and even the fish in the water, seek forgiveness for the scholar. The superiority of the scholar over the worshipper is like the superiority of the full moon over the rest of the stars. Indeed the scholars are the heirs of the Prophets. Indeed the Prophets did not leave behind dinars or dirhams; they left behind knowledge. Whoever takes it has taken an abundant share."
اردو ترجمہ
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا: 'اے ابو الدرداء! میں آپ کے پاس مدینۃ الرسول سے ایک حدیث کی وجہ سے آیا ہوں جو مجھے بتائی گئی ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔' حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: 'تم تجارت کے لیے نہیں آئے؟ کسی ضرورت کے لیے نہیں آئے؟ صرف اس حدیث کے لیے آئے ہو؟' اس نے کہا: 'ہاں۔' فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: "جو شخص علم کی تلاش میں کوئی راستہ چلے، اللہ اسے جنت کے راستوں میں سے ایک راستے پر چلاتا ہے۔ فرشتے طالبِ علم کے لیے خوشی سے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ عالم کے لیے آسمان و زمین والے اور پانی کی مچھلیاں استغفار کرتی ہیں۔ عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کی باقی ستاروں پر۔ بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ بے شک انبیاء نے دینار اور درہم وراثت میں نہیں چھوڑے بلکہ علم وراثت میں چھوڑا، پس جس نے اسے حاصل کیا اس نے بڑا حصہ حاصل کیا۔"
