عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حُجَّاجًا حَتَّى قَدِمْنَا سَرِفَ فَحِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ «مَا لَكِ» فَقُلْتُ لَيْتَنِي لَمْ أَحُجَّ الْعَامَ قَالَ «مَا لَكِ» قُلْتُ حِضْتُ قَالَ «هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاصْنَعِي كَمَا يَصْنَعُ الْحَاجُ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ » اجْعَلُوهَا عَمْرَةً «فَفَعَلُوا فَمَنْ لَمْ يَسُقْ هَدْيًا حَلَّ وَسَاقَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مِنْ أَهْلِ الْيَسَارِ فَلَمْ يَحِلُّوا فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ ذَبَحَ النَّبِيُّ ﷺ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ وَطَهُرْتُ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَسَعَيْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ بِمِنًى فَلَمَّا نَفَرْنَا أَرْسَلَنِي مَعَ أَخِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ مِنَ الْمُحَصَّبِ فَقَالَ » أَرْدِفْ أُخْتَكَ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ فَأَرْدَفَنِي فَأَهْلَلْتُ مِنَ التَّنْعِيمِ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَصَدَرَنَا «
انگریزی ترجمہ
Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) narrated: We set out with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) as pilgrims until we reached Sarif, where I began menstruating. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came to me while I was weeping and stated: "What is the matter with you?" I said: "I wish I had not performed Hajj this year." He stated: "What is the matter with you?" I said: "I have begun menstruating." He stated: "This is something that Allah has ordained for the daughters of Adam. Do everything that the pilgrim does, except that you should not circumambulate the House." When we arrived in Makkah, the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Convert it to an Umrah." So they did. Whoever had not brought a sacrificial animal became free from ihram. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), Hadrat Abu Bakr, Hadrat Umar (may Allah be well pleased with them) and some wealthy Companions had brought sacrificial animals, so they did not exit ihram. On the Day of Sacrifice, the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) slaughtered cows on behalf of his wives. When I became pure, I performed tawaf of the House and sa'i. Then I returned to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) at Mina. When we departed, he sent me with my brother Hadrat Abd al-Rahman ibn Abi Bakr (may Allah be well pleased with him) from al-Muhassab and stated: "Take your sister and have her perform Umrah from Tan'im." So he took me, and I entered ihram from Tan'im, performed tawaf of the House, and then returned to him, and we departed.
اردو ترجمہ
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کرنے نکلے یہاں تک کہ ہم سَرِف پہنچے تو مجھے حیض آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی، تو ارشاد فرمایا: «تمہیں کیا ہوا؟» میں نے عرض کیا: کاش میں اس سال حج نہ کرتی۔ ارشاد فرمایا: «تمہیں کیا ہوا؟» میں نے عرض کیا: مجھے حیض آ گیا۔ ارشاد فرمایا: «یہ ایک ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنات آدم پر لکھ دی ہے، تم وہ سب کام کرو جو حاجی کرتا ہے سوائے اس کے کہ بیت اللہ کا طواف نہ کرو۔» جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اسے عمرہ بنا لو۔» تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ جس نے ہدی نہیں لائی تھی وہ حلال ہو گیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم، حضرت ابوبکر، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور صاحبِ حیثیت صحابہ نے ہدی ساتھ لائی تھی تو وہ حلال نہیں ہوئے۔ جب یوم النحر آیا تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گائیں ذبح کیں۔ اور میں پاک ہوئی تو بیت اللہ کا طواف اور سعی کی پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس منیٰ واپس آئی۔ جب ہم روانہ ہوئے تو آپ نے مجھے میرے بھائی حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ محصّب سے بھیجا اور ارشاد فرمایا: «اپنی بہن کو سوار کرو اور تنعیم سے اسے عمرہ کراؤ۔» تو انہوں نے مجھے سوار کیا اور میں نے تنعیم سے احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف کیا پھر آپ کے پاس واپس آئی اور ہم روانہ ہو گئے۔
