عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ «لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةٌ وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ فَإِنْ كَانَ صَاحِبُهَا سَادًّا وَقَارِبًا فَارْجُوهُ وَإِنْ أُشِيرَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ فَلَا تَعُدُّوهُ»
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Hurairah (may Allah be well pleased with him) narrated that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: «For every deed there is a period of enthusiasm, and for every enthusiasm there is a period of decline. So if its doer is moderate and balanced, then have hope for him. But if fingers point at him (in amazement at his extremism), then do not count upon him.»
اردو ترجمہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «ہر عمل کے لیے ایک جوش ہوتا ہے، اور ہر جوش کے لیے ایک کمی ہوتی ہے۔ اگر اس کا کرنے والا معتدل اور متوازن ہو تو اس سے امید رکھو۔ اور اگر انگلیاں (حیرت سے) اس کی طرف اٹھیں تو اس پر اعتماد نہ کرو۔»
