عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِحَرَّانَ قَالَ حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا جَاءَ نَعْيُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْحُزْنُ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ هَذِهِ نِسَاءُ جَعْفَرٍ يَنُحْنَ عَلَيْهِ وَقَدْ أَكْثَرْنَ بُكَاءَهُنَّ قَالَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْهَاهُنَّ فَمَكَثَ شَيْئًا ثُمَّ رَجَعَ فَذَكَرَ أَنَّهُ نَهَاهُنَّ فَأَبَيْنَ أَنْ يُطِعْنَهُ فَأَمَرَهُ الثَّانِيَةَ أَنْ يَنْهَاهُنَّ قَالَ فَذَكَرَ أَنَّهُ قَدْ غَلَبْنَهُ قَالَ «فَاحْثُ فِي وُجُوهِهِنَّ التُّرَابَ»
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) who said: When the news of the martyrdom of Hadrat Zayd ibn Haritha, Hadrat Ja'far, and Hadrat Abdullah ibn Rawaha (may Allah be well pleased with them) came, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sat with grief visible on his blessed face. A man came to him and said: 'These are the women of Ja'far wailing over him and their weeping has become excessive.' He said: So he ordered him to forbid them. He waited for a while, then the man returned and mentioned that he had forbidden them but they refused to obey him. Then he ordered him a second time to forbid them. He said: He mentioned that they had overcome him. He stated: 'Then throw dust in their faces.'
اردو ترجمہ
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب حضرت زید بن حارثہ، حضرت جعفر اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی شہادت کی خبر آئی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے اور آپ کے چہرے پر غم نمایاں تھا۔ ایک شخص آیا اور عرض کیا: یہ جعفر کی عورتیں ان پر نوحہ کر رہی ہیں اور بہت زیادہ رو رہی ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ انہیں منع کرے۔ وہ کچھ دیر بعد واپس آیا اور بتایا کہ اس نے انہیں منع کیا لیکن انہوں نے اس کی بات نہ مانی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری بار حکم دیا۔ اس نے بتایا کہ وہ اس پر غالب آ گئیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 'تو ان کے منہ میں مٹی ڈال دو۔'
