عربی (اصل)
اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ العَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الغُيُوبِ، اللّٰهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي، وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِي الخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ[سورة آل عمران:159]
انگریزی ترجمہ
"O Allah, I seek Your guidance through Your knowledge, and I seek ability through Your power, and I ask You from Your immense favor. For indeed, You are capable and I am not, You know and I do not, and You are the Knower of the unseen. O Allah, if You know that this matter is good for me in my religion, my livelihood, and the outcome of my affairs, then decree it for me, make it easy for me, and bless it for me. And if You know that this matter is bad for me in my religion, my livelihood, and the outcome of my affairs, then turn it away from me and turn me away from it, and decree for me what is good wherever it may be, and then make me content with it." The Prophet (peace be upon him) used to teach his companions Istikhara (seeking guidance) for all matters, just as he would teach them a Surah from the Quran.
اردو ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمہمیں تمام کاموں میں استخارہ کی تعلیم اس طرح دیا کرتے تھے، جس طرح قرآن مجید کی سورت سکھلایا کرتے تھے۔آپصلی اللہ علیہ وسلمفرماتے ہیں:”تم میں سے اگر کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے تو وہ (فرض کے علاوہ) دو رکعت نماز ادا کرے اور پھر یہ کہے۔“،”اے اللہ! بے شک میں تجھ سے تیرے علم کے ذریعے خیر طلب کرتا ہوں، اور تیری قدرت کے ذریعے طاقت مانگتا ہوں، اور میں تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا۔ اور تو غیب کے امور جاننے والا ہے، اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (کام کا نام لے) میرے لئے میرے دین میں میری معاش، اور میری آخرت کے انجام کے لئے بہتر ہے تو اسے میرے مقدر میں کر دے، اور اسے میرے لئے آسان کر دے، پھر میرے لئے اس میں برکت ڈال۔ اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (کام کانام لے) میرے لئے میرے دین میں، میری معاش اور میری آخرت کے انجام کے لئے برا ہے تو اسے مجھ سے ہٹا دے اور مجھے اس سے ہٹا دے اور میرے لئے بھلائی کر دے جہاں کہیں بھی ہو پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔“جو شخص اپنے خالق سے استخارہ کرے، مومن مخلوق سے مشورہ کرے، اپنا کام دلجمعی سے کرے وہ کبھی بھی شرمندہ نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:«وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ»”اور ان سے کام میں مشورہ کرو، اور جب تم پختہ ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسہ رکھو۔“[صحيح بخاري:6382][مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 83]
