عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِي أَبِي ثنا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ؟ قَالَ «يُنْظُرُ فِي كِتَابِهِ وَيُتَجَاوَزُ لَهُ عَنْهُ إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ يَا عَائِشَةُ هَلَكَ فَكُلُّ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى الشَّوْكَةَ تَشُوكُهُ»
انگریزی ترجمہ
Ahmad ibn Ja'far al-Qati'i informed us — 'Abd Allah ibn Ahmad ibn Hanbal narrated to us — my father narrated to me — Isma'il, who is Ibn Ibrahim, narrated to us — Muhammad ibn Ishaq narrated to us — 'Abd al-Wahid ibn Hamzah ibn 'Abd Allah ibn al-Zubayr narrated to me — from 'Abbad ibn 'Abd Allah ibn al-Zubayr — from Umm al-Mu'minin Hadrat 'A'ishah (may Allah be well pleased with her) who said: I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say in some of his prayers: 'O Allah, hold me to an easy reckoning.' When he finished, I submitted: 'O Messenger of Allah, what is the easy reckoning?' He stated: 'That his record be looked at and he be pardoned for it. Indeed, whoever has his reckoning scrutinized on that Day, O 'A'ishah, is doomed. Every affliction that befalls a believer, Allah expiates [his sins] through it, even a thorn that pricks him.'
اردو ترجمہ
احمد بن جعفر القطیعی نے ہمیں خبر دی — عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے ہم سے بیان کیا — میرے والد نے مجھ سے بیان کیا — اسماعیل یعنی ابن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا — محمد بن اسحاق نے ہم سے بیان کیا — عبد الواحد بن حمزہ بن عبد اللہ بن زبیر نے مجھ سے بیان کیا — عباد بن عبد اللہ بن زبیر سے — اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو بعض نمازوں میں فرماتے سنا: 'اے اللہ! میرا آسان حساب لے۔' جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آسان حساب کیا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: 'اس کے نامہ اعمال میں دیکھا جائے اور اس سے درگزر کیا جائے۔ بے شک جس کا حساب اس دن باریکی سے لیا گیا، اے عائشہ! وہ ہلاک ہو گیا۔ مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہ معاف کرتا ہے، یہاں تک کہ ایک کانٹا جو اسے چبھے۔'
