عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَخْرُجُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ السُّفْيَانِيُّ فِي عُمْقِ دِمَشْقَ وَعَامَّةُ مَنْ يَتْبَعُهُ مِنْ كَلْبِ فَيَقْتُلُ حَتَّى يَبْقَرَ بُطُونَ النِّسَاءِ وَيَقْتُلُ الصِّبْيَانَ فَتَجْمَعُ لَهُمْ قَيْسٌ فَيَقْتُلُهَا حَتَّى لَا يُمْنَعُ ذَنَبُ تَلْعَةٍ وَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فِي الْحَرَّةِ فَيَبْلُغُ السُّفْيَانِيَّ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِ جُنْدًا مِنْ جُنْدِهِ فَيَهْزِمُهُمْ فَيَسِيرُ إِلَيْهِ السُّفْيَانِيُّ بِمَنْ مَعَهُ حَتَّى إِذَا صَارَ بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ فَلَا يَنْجُو مِنْهُمْ إِلَّا الْمُخْبِرُ عَنْهُمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» على شرط البخاري ومسلم
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "A man called the Sufyani shall emerge from the depth of Damascus. Most of his followers shall be from [the tribe of] Kalb. He shall kill until he rips open the bellies of women and slays children. Then Qays shall gather against them, and he shall kill them such that not even a tail of a hill-stream shall be defended. Then a man from my household shall emerge in al-Harrah. When the Sufyani hears of it, he shall dispatch an army against him, but he shall defeat them. The Sufyani shall then march toward him with his forces, and when they are at a barren desert, the earth shall swallow them up, and none of them shall be saved except the one who reports about them." This is a hadith whose chain of transmission is authentic according to the criteria of al-Bukhari and Muslim, though they did not record it.
اردو ترجمہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «دمشق کی گہرائی سے ایک شخص نکلے گا جسے سفیانی کہا جائے گا۔ اس کے زیادہ تر پیروکار قبیلہ کلب سے ہوں گے۔ وہ قتل کرے گا یہاں تک کہ عورتوں کے پیٹ چیرے گا اور بچوں کو قتل کرے گا۔ پھر قیس ان کے خلاف جمع ہوں گے تو وہ انہیں ایسے قتل کرے گا کہ ایک ٹیلے کا سرا بھی نہ بچے۔ پھر میرے اہل بیت میں سے ایک شخص حرّہ میں نکلے گا۔ سفیانی کو خبر پہنچے گی تو اپنا لشکر اس کی طرف بھیجے گا مگر وہ انہیں شکست دے گا۔ پھر سفیانی اپنے ساتھیوں سمیت اس کی طرف چلے گا، جب وہ ایک بیابان میں ہوں گے تو زمین انہیں نگل لے گی اور ان میں سے صرف خبر دینے والا بچے گا۔» یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
