عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفَقِيهُ بِالرِّيِّ ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ «سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ سِنُونَ يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ» قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ؟ قَالَ «السَّفِيهُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ» قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ «وَتَشِيعُ فِيهَا الْفَاحِشَةُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ وَهُوَ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ غَرِيبٌ جِدًّا صحيح
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him) narrated from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) that he stated: "Years of deceit shall come upon the people, in which the liar shall be believed and the truthful shall be disbelieved, the treacherous shall be trusted and the trustworthy shall be accused of treachery, and the Ruwaybidah shall speak." It was asked: O Messenger of Allah, what is the Ruwaybidah? He stated: "The foolish man who speaks on public affairs." Ibn Qudamah said: Yahya ibn Sa'id al-Ansari narrated to me from al-Maqburi, who added: "And immorality shall spread in them." This is a hadith whose chain of transmission is authentic, though they (al-Bukhari and Muslim) did not record it.
اردو ترجمہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: «لوگوں پر دھوکے کے سال آئیں گے جن میں جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی اور سچے کو جھٹلایا جائے گا، خائن کو امانتدار سمجھا جائے گا اور امانتدار پر خیانت کا الزام لگایا جائے گا، اور رُویبِضہ بولے گا۔» عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! رویبضہ کیا ہے؟ فرمایا: «نالائق شخص جو عوام کے معاملات میں بات کرے۔» ابن قدامہ نے کہا: مجھے یحییٰ بن سعید انصاری نے مقبری سے بیان کیا کہ: «اور ان میں فحاشی عام ہوگی۔» یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
