عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ قَالَ أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ يَقُولُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِكُلِّ فِتْنَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَ السَّاعَةِ وَمَا ذَاكَ أَنْ يَكُونَ حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِهَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ يُحَدِّثْ بِهَا غَيْرِي وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ مَجْلِسًا أَنَا فِيهِ عَنِ الْفِتَنِ وَهُوَ «يَعُدُّ الْفِتَنَ فِيهِنَّ ثَلَاثٌ لَا تَذَرُنَّ شَيْئًا مِنْهُنَّ كَرِيَاحِ الصَّيْفِ مِنْهَا صِغَارٌ وَمِنْهَا كِبَارٌ» فَذَهَبَ أُولَئِكَ الرَّهْطُ كُلُّهُمْ غَيْرِي «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» على شرط البخاري ومسلم
انگریزی ترجمہ
Hadrat Hudhayfah (may Allah be well pleased with him) said: By Allah, I am the most knowledgeable of people about every tribulation that will occur between now and the Hour. It is not because the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) told me something in private that he did not tell others. Rather, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) spoke in a gathering in which I was present about tribulations, and he was counting them — among them three that leave nothing — like winds of summer, some of them small and some of them great. Those companions all passed away except me. This hadith is authentic upon the condition of the two Shaykhs, and they did not narrate it.
اردو ترجمہ
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: بخدا! میں اب سے قیامت تک ہونے والے ہر فتنے کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔ یہ اس لیے نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کوئی خاص بات بتائی جو اوروں کو نہیں بتائی۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مجلس میں فتنوں کا ذکر فرمایا جس میں مَیں بھی موجود تھا۔ آپ فتنے گن رہے تھے — ان میں تین ایسے ہیں جو کچھ نہیں چھوڑتے — گرمیوں کی ہواؤں کی طرح، ان میں سے کچھ چھوٹے ہیں اور کچھ بڑے۔ وہ سب ساتھی گزر گئے سوائے میرے۔ یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور انہوں نے روایت نہیں کیا۔
