عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ وَأَبُو غَسَّانَ قَالَا ثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَكَّةَ أَتَاهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالُوا إِنَّهُ قَدْ لَحِقَ بِكَ نَاسٌ مِنْ مَوَالِينَا وَأَرِقَّائِنَا لَيْسَ لَهُمْ رَغْبَةٌ فِي الدِّينِ إِلَّا فِرَارًا مِنْ مَوَاشِينَا وَزَرْعِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «وَاللَّهِ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ لَتُقِيمُنَّ الصَّلَاةَ وَلَتُؤْتُنَّ الزَّكَاةَ أَوْ لَأَبْعَثَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلًا فَيَضْرِبُ أَعْنَاقَكُمْ عَلَى الدِّينِ» ثُمَّ قَالَ «أَنَا أَوْ خَاصِفُ النَّعْلِ» قَالَ عَلِيٌّ «وَأَنَا أَخْصِفُ نَعْلَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ» على شرط مسلم
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ali ibn Abi Talib (may Allah ennoble his countenance) narrated: When the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) conquered Makkah, some people from the Quraysh came to him and said: "Some of our freed slaves and servants have joined you. They have no desire for the religion but are only fleeing from our livestock and farms." The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "By Allah, O assembly of Quraysh, you shall establish the prayer and pay the zakah, or I shall send upon you a man who will strike your necks for the sake of the religion." Then he said: "Either I myself, or the one who is mending the sandal." Hadrat Ali (may Allah ennoble his countenance) said: "And I was mending the sandal of the Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)." According to the condition of Muslim.
اردو ترجمہ
حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت ہے: جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو قریش کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور کہا: ہمارے کچھ آزاد کردہ غلام اور خادم آپ کے پاس آ گئے ہیں۔ انہیں دین سے کوئی رغبت نہیں بلکہ وہ صرف ہمارے مویشیوں اور کھیتوں سے فرار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اللہ کی قسم! اے گروہِ قریش! تم ضرور نماز قائم کرو گے اور زکوٰۃ دو گے ورنہ میں تم پر ایسا شخص بھیجوں گا جو دین کی خاطر تمہاری گردنیں ماریگا۔» پھر فرمایا: «میں خود یا جوتا گانٹھنے والا۔» حضرت علی کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے فرمایا: «اور میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا جوتا گانٹھ رہا تھا۔» مسلم کی شرط پر۔
