عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَنْبَأَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ كَانَ بَيْنَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَبَيْنَ ابْنَةِ أَرْوَى خُصُومَةٌ فَقَالَ مَرْوَانُ أَصْلِحُوا بَيْنَ هَذَيْنِ فَقُلْنَا لَهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قُلْنَا أَنْصَفَ هَذِهِ الْمَرْأَةَ فَقَالَ أَتُرَوْنِي أَنْتَقِصُهَا مِنْ حَقِّهَا شَيْئًا وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ «مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ طُوَّقَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ وَمَنِ اقْتَطَعَ مَالًا بِيَمِينِهِ فَلَا بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ صحيح
انگریزی ترجمہ
Hadrat Sa'id ibn Zayd (may Allah be well pleased with him) narrated that there was a dispute between him and the daughter of Arwa. Marwan said: "Reconcile between these two." We spoke to him about it until we said: "Be fair to this woman." He said: "Do you think I would deprive her of anything from her right when I have heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: 'Whoever seizes a handspan of land, Allah will collar him with it on the Day of Resurrection from seven earths. And whoever seizes property by his oath, there shall be no blessing in it for him. And whoever affiliates himself with a people without their permission, upon him is the curse of Allah, the angels, and all of mankind.'" This is a hadith with an authentic chain of transmission, though neither [al-Bukhari nor Muslim] recorded it with this wording. [Authentic].
اردو ترجمہ
حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے اور ابنتِ اروی کے درمیان جھگڑا تھا۔ مروان نے کہا: ان دونوں میں صلح کراؤ۔ ہم نے ان سے بات کی یہاں تک کہ ہم نے کہا: اس عورت کے ساتھ انصاف کرو۔ انہوں نے کہا: کیا تم سمجھتے ہو کہ میں اس کے حق میں سے کچھ کم کروں گا جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے: «جس نے ایک بالشت زمین ہتھیائی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق بنا کر پہنائیں گے۔ اور جس نے اپنی قسم سے مال ہتھیایا تو اس میں اسے کوئی برکت نہ ہوگی۔ اور جس نے کسی قوم سے بغیر ان کی اجازت کے وابستگی اختیار کی تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔» یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر انہوں نے اسے اس سیاق سے روایت نہیں کیا۔ صحیح۔
