عربی (اصل)
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ أَنْبَأَ إِسْحَاقُ أَنْبَأَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَنِيُّ أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ الْأَنْصَارِيَّةِ وَكَانَتْ بَعْضُ خَالَاتِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَمَعَهُ عَلِيٌّ نَاقِهٌ مِنْ مَرَضٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ
انگریزی ترجمہ
Hadrat Umm Mubashshir al-Ansariyya (may Allah be well pleased with her), who was one of the maternal aunts of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), narrated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) entered upon me accompanied by Hadrat Ali (may Allah ennoble his countenance) [who was recovering from an illness, and similar to the previous narration about dates].
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ مبشر الانصاریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بعض خالاؤں میں سے تھیں، نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور آپ کے ساتھ حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم تھے [جو بیماری سے صحت یاب ہورہے تھے، اور پچھلی روایت کی طرح کھجوروں کا ذکر ہے]۔
