عربی (اصل)
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ثَنَا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ قَالَ بَلَغَتِ النَّخْلَةُ عَلَى عَهْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَعَمَدَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ إِلَى نَخْلَةٍ فَنَقَرَهَا وَأَخْرَجَ جُمَّارَهَا فَأَطْعَمَهَا أُمَّهُ فَقَالَ لَهُ مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا؟ وَأَنْتَ تَرَى النَّخْلَةَ قَدْ بَلَغَتْ أَلْفًا فَقَالَ «إِنَّ أُمِّي سَأَلَتْنِيهِ وَلَا تَسْأَلُنِي شَيْئًا أَقْدِرُ عَلَيْهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهَا» الحديث فيه إرسال لَهُ مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا؟ وَأَنْتَ تَرَى النَّخْلَةَ قَدْ بَلَغَتْ أَلْفًا فَقَالَ «إِنَّ أُمِّي سَأَلَتْنِيهِ وَلَا تَسْأَلُنِي شَيْئًا أَقْدِرُ عَلَيْهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهَا» الحديث فيه إرسال
انگریزی ترجمہ
Muhammad ibn Sirin narrated: 'In the time of Hadrat Uthman (may Allah be well pleased with him), a palm tree reached the value of a thousand dirhams. So Hadrat Usama ibn Zayd (may Allah be well pleased with them) cut open a palm tree and took out its palm-heart to feed his mother. It was said to him: What made you do this when you see a palm tree has reached a thousand? He said: My mother asked me for it, and she does not ask me for anything that I am able to give except that I give it to her.'
اردو ترجمہ
محمد بن سیرین نے بیان کیا: 'حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ایک کھجور کا درخت ایک ہزار درہم تک پہنچ گیا۔ تو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ایک کھجور کا درخت چیرا اور اس کا جمار نکال کر اپنی والدہ کو کھلایا۔ ان سے کہا گیا: آپ نے یہ کیوں کیا جبکہ آپ دیکھتے ہیں کہ کھجور ایک ہزار تک پہنچ چکا ہے؟ فرمایا: میری والدہ نے مجھ سے مانگا اور وہ مجھ سے کوئی چیز نہیں مانگتیں جس پر میں قادر ہوں مگر میں انہیں دے دیتا ہوں۔'
