عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ثَنَا جَنْدَلُ بْنُ وَالْقٍ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْمَازِنِيُّ عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ ثَوْرِ بْنِ مَجْزَأَةَ قَالَ مَرَرْتُ بِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يَوْمَ الْجَمَلِ وَهُوَ صَرِيعٌ فِي آخِرِ رَمَقٍ فَوَقَفْتُ عَلَيْهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ إِنِّي لَأَرَى وَجْهَ رَجُلٍ كَأَنَّهُ الْقَمَرُ مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ مِنْ أَصْحَابِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ فَقَالَ ابْسُطْ يَدَكَ أُبَايِعُكَ فَبَسَطْتُ يَدِي وَبَايَعَنِي فَفَاضَتْ نَفْسُهُ فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ طَلْحَةَ فَقَالَ «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَبَى اللَّهُ أَنْ يَدْخُلَ طَلْحَةَ الْجَنَّةَ إِلَّا وَبَيْعَتِي فِي عُنُقِهِ» سكت عنه الذهبي في التلخيص
انگریزی ترجمہ
Ali ibn al-Mu'ammal ibn al-Hasan ibn Isa informed us, Muhammad ibn Yunus narrated to us, Jandal ibn Waliq narrated to us, Muhammad ibn Umar al-Mazini narrated to us from Abu Amir al-Ansari, from Thawr ibn Majza'a who said: I passed by Hadrat Talha ibn Ubaydillah (may Allah be well pleased with him) on the day of the Camel while he was lying wounded, in his last breaths. I stood over him and he raised his head and said: "I see the face of a man who looks like the moon. Whose side are you on?" I said: "From the companions of the Commander of the Faithful, Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance)." He said: "Extend your hand so that I may pledge allegiance to you." I extended my hand and he pledged allegiance to me, then his soul departed. I went to Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) and informed him of Talha's words. He said: "Allah is the Greatest! Allah is the Greatest! The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) spoke the truth. Allah refused that Talha should enter Paradise except with my pledge of allegiance upon his neck."
اردو ترجمہ
علی بن المؤمل بن الحسن بن عیسیٰ نے ہمیں خبر دی، محمد بن یونس نے ہمیں بیان کیا، جندل بن والق نے ہمیں بیان کیا، محمد بن عمر مازنی نے ابو عامر انصاری سے، ثور بن مجزأہ سے روایت کیا، فرمایا: میں جنگ جمل کے دن حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے گزرا اور وہ زخمی پڑے تھے آخری سانسوں میں۔ میں ان پر کھڑا ہوا تو انہوں نے سر اٹھایا اور فرمایا: میں ایک ایسے شخص کا چہرہ دیکھ رہا ہوں گویا چاند ہے، تم کس کے ساتھ ہو؟ میں نے عرض کیا: امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے ساتھیوں میں سے ہوں۔ فرمایا: اپنا ہاتھ بڑھاؤ تاکہ میں تمہارے ہاتھ پر بیعت کروں۔ میں نے ہاتھ بڑھایا اور انہوں نے بیعت کی پھر ان کی روح مبارک پرواز کر گئی۔ میں حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے پاس آیا اور حضرت طلحہ کی بات بتائی۔ آپ نے فرمایا: «اللہ اکبر! اللہ اکبر! رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا۔ اللہ نے ابا فرمایا کہ طلحہ جنت میں داخل ہوں مگر ان کی گردن میں میری بیعت ہو۔»
