عربی (اصل)
أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ قُرَيْشٍ ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَةَ ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ ثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ إِيَاسٍ الضَّبِّيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ يَوْمَ الْجَمَلِ فَبَعَثَ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنِ الْقَنِي فَأَتَاهُ طَلْحَةُ فَقَالَ نَشَدْتُكَ اللَّهَ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ؟ يَقُولُ «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَلَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» ؟ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلِمَ تُقَاتِلُنِي؟ قَالَ لَمْ أَذَكُرْ قَالَ فَانْصَرَفَ طَلْحَةُالحسن هو العرني ليس بثقة سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ؟ يَقُولُ «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَلَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» ؟ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلِمَ تُقَاتِلُنِي؟ قَالَ لَمْ أَذَكُرْ قَالَ فَانْصَرَفَ طَلْحَةُالحسن هو العرني ليس بثقة
انگریزی ترجمہ
Al-Walid and Abu Bakr ibn Quraysh informed me, al-Hasan ibn Sufyan narrated to us, Muhammad ibn Abda narrated to us, al-Hasan ibn al-Husayn narrated to us, Rifa'a ibn Iyas al-Dabbi narrated to us from his father, from his grandfather who said: We were with Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) on the day of the Camel. He sent word to Hadrat Talha ibn Ubaydillah (may Allah be well pleased with him) to meet him. Talha came to him. He said: "I adjure you by Allah, did you not hear the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stating: 'Whoever I am his master, then Ali is his master. O Allah, befriend whoever befriends him and oppose whoever opposes him'?" He said: "Yes." He said: "Then why do you fight me?" He said: "I had not remembered." Talha then departed.
اردو ترجمہ
ولید اور ابو بکر بن قریش نے مجھے خبر دی، حسن بن سفیان نے ہمیں بیان کیا، محمد بن عبدہ نے ہمیں بیان کیا، حسن بن الحسین نے ہمیں بیان کیا، رفاعہ بن ایاس ضبی نے اپنے والد سے، اپنے دادا سے روایت کیا، فرمایا: ہم جنگ جمل کے دن حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے ساتھ تھے۔ آپ نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پیغام بھیجا کہ مجھ سے ملیں۔ حضرت طلحہ آئے۔ فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے نہیں سنا: «جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے۔ اے اللہ! اس سے دوستی رکھ جو اس سے دوستی رکھے اور اس سے دشمنی رکھ جو اس سے دشمنی رکھے»؟ فرمایا: ہاں۔ فرمایا: پھر تم مجھ سے کیوں لڑتے ہو؟ فرمایا: مجھے یاد نہیں رہا۔ پھر حضرت طلحہ واپس چلے گئے۔
