عربی (اصل)
أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي بِهَمْدَانَ ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ قَالَ أَرْسَلَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِلَى عُثْمَانَ فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ يُغَدِّي النَّاسَ فَدَعَوْتُهُ فَأَتَاهُ فَقَالَ «أَفْلَحَ الْوُجُوهُ يَا أَبَا الْفَضْلِ» فَقَالَ وَوَجْهُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَ «مَا زِدْتُ عَلَى أَنْ أَتَانِي رَسُولُكَ وَأَنَا أُغَدِّي فَغَدَّيْتُهُمْ ثُمَّ أَقْبَلْتُ» سكت عنه الذهبي في التلخيص أَنْ أَتَانِي رَسُولُكَ وَأَنَا أُغَدِّي فَغَدَّيْتُهُمْ ثُمَّ أَقْبَلْتُ» سكت عنه الذهبي في التلخيص
انگریزی ترجمہ
Abu al-Qasim Abd al-Rahman ibn al-Hasan al-Qadi informed me in Hamdan, Ibrahim ibn al-Husayn narrated to us, Adam ibn Abi Iyas narrated to us, Shu'ba narrated to us from Amr ibn Murra who said: I heard Dhakwan Abu Salih say: "Hadrat al-Abbas ibn Abd al-Muttalib (may Allah be well pleased with him) sent me to Hadrat Uthman (may Allah be well pleased with him). I went to him and found him feeding the people. I invited him and he came. He said: 'May the faces prosper, O Abu al-Fadl!' Al-Abbas said: 'And your face too, O Commander of the Faithful.' He said: 'I have only come to you because I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: O Abbas, O uncle of the Messenger of Allah, indeed Allah has adorned you with an adornment with which He adorned the angels.'"
اردو ترجمہ
ابو القاسم عبد الرحمٰن بن الحسن قاضی نے مجھے ہمدان میں خبر دی، ابراہیم بن الحسین نے ہمیں بیان کیا، آدم بن ابی ایاس نے ہمیں بیان کیا، شعبہ نے عمرو بن مرہ سے روایت کیا، فرمایا: میں نے ذکوان ابو صالح کو فرماتے سنا: «حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیجا۔ میں ان کے پاس آیا تو وہ لوگوں کو کھانا کھلا رہے تھے۔ میں نے بلایا تو وہ آئے۔ فرمایا: چہرے کامیاب ہوں اے ابو الفضل! عباس نے فرمایا: اور آپ کا بھی اے امیر المومنین۔ فرمایا: میں صرف اس لیے آپ کے پاس آیا ہوں کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: اے عباس! اے رسول اللہ کے چچا! بے شک اللہ نے تمہیں ایسی زینت سے آراستہ کیا جس سے فرشتوں کو آراستہ کیا۔»
