عربی (اصل)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «رَضِيتُ لِأُمَّتِي مَ�� رَضِيَ لَهَا ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ» هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَلَهُ عِلَّةٌ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ فَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ الْفَقِيهُ ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ وَأَمَّا حَدِيثُ إِسْرَائِيلَمرسل الحاكم ٥٣٨٧: عن
انگریزی ترجمہ
The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "I am pleased for my Ummah with that which Ibn Umm Abd is pleased with for them." This chain is authentic upon the conditions of both Shaykhs (al-Bukhari and Muslim), though they did not narrate it. It has a defect from the hadith of Sufyan al-Thawri. Muhammad ibn Musa ibn Imran al-Faqih informed us, Ibrahim ibn Abi Talib narrated to us, Abu Kurayb narrated to us, Waki' narrated to us from Sufyan. As for the hadith of Isra'il...
اردو ترجمہ
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «میں اپنی امت کے لیے اس سے راضی ہوں جس سے ابن اُمّ عبد ان کے لیے راضی ہوں۔» یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس میں سفیان ثوری کی حدیث سے ایک علت ہے۔ محمد بن موسیٰ بن عمران الفقیہ نے ہمیں خبر دی، ابراہیم بن ابی طالب نے ہمیں بیان کیا، ابو کریب نے ہمیں بیان کیا، وکیع نے سفیان سے بیان کیا۔ اور اسرائیل کی حدیث...
