عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبُرْنُسِيُّ ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ كُنْتُ مُحْرِمًا فَرَأَيْتُ ظَبْيًا فَرَمَيْتُهُ فَأَصَبْتُهُ فَمَاتَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَسْأَلُهُ فَوَجَدْتُ إِلَى جَنْبِهِ رَجُلًا أَبْيَضَ رَقِيقَ الْوَجْهِ فَإِذَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَسَأَلْتُ عُمَرَ فَالْتَفَتَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ تَرَى شَاةً تَكْفِيهِ قَالَ «نَعَمْ» فَأَمَرَنِي أَنْ أَذْبَحَ شَاةً فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِهِ قَالَ صَاحِبٌ لِي إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَمْ يُحْسِنْ أَنْ يُفْتِيَكَ حَتَّى سَأَلَ الرَّجُلَ فَسَمِعَ عُمَرُ بَعْضَ كَلَامِهِ فَعَلَاهُ عُمَرُ بِالدِّرَّةِ ضَرْبًا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ لِيَضْرِبَنِي فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي لَمْ أَقُلْ شَيْئًا إِنَّمَا هُوَ قَالَهُ قَالَ فَتَرَكَنِي ثُمَّ قَالَ «أَرَدْتَ أَنْ تَقْتُلَ الْحَرَامَ وَتَتَعَدَّ بِالْفُتْيَا» ثُمَّ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ «إِنَّ فِي الْإِنْسَانِ عَشْرَةَ أَخْلَاقٍ تِسْعَةٌ حَسَنَةٌ وَوَاحِدٌ سَيِّئٌ وَيُفْسِدُهَا ذَلِكَ السَّيِّئُ» ثُمَّ قَالَ «إِيَّاكَ وَعَثْرَةَ الشَّبَابِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ على شرط البخاري ومسلم
انگریزی ترجمہ
Abu al-Abbas Muhammad ibn Ya'qub narrated to us, Ibrahim ibn Sulayman al-Burnusi narrated to us, Abd al-Aziz ibn Abdullah al-Uwaysi narrated to us, Ibrahim ibn Sa'd narrated to me from Salih ibn Kaysan, from Ibn Shihab, from Salim who said: I said to Hadrat Abdullah ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) - and Abu Abdullah Muhammad ibn Ali al-San'ani informed me in Makkah, Ishaq ibn Ibrahim narrated to us, Abd al-Razzaq informed us, Ma'mar informed us from Abd al-Malik ibn Umayr, from Qabisa ibn Jabir al-Asadi who said: "I was in a state of ihram when I saw a gazelle, so I shot it and killed it. That weighed on my conscience, so I went to Hadrat Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with him) to ask him, and I found beside him a fair-skinned, delicate-faced man - and behold, it was Hadrat Abd al-Rahman ibn Awf (may Allah be well pleased with him). I asked Hadrat Umar and he turned to Hadrat Abd al-Rahman and said: 'Do you think a sheep would suffice for him?' He said: 'Yes.' So he ordered me to slaughter a sheep. When we left his presence, my companion said: 'The Commander of the Faithful did not know how to give you a ruling until he asked that man.' Hadrat Umar heard some of his words and struck him with his whip. Then he turned to me to strike me, but I said: 'O Commander of the Faithful, I did not say anything - it was he who said it.' He said: So he left me alone. Then he said: 'You wanted to kill a sacred animal and overstep in giving rulings.' Then the Commander of the Faithful said: 'Indeed in a person there are ten qualities - nine good and one bad - and that one bad quality corrupts them all.' Then he said: 'Beware of the stumbles of youth.'"
اردو ترجمہ
ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہمیں بیان کیا، ابراہیم بن سلیمان البرنسی نے ہمیں بیان کیا، عبد العزیز بن عبد اللہ الاویسی نے ہمیں بیان کیا، ابراہیم بن سعد نے مجھے صالح بن کیسان سے بیان کیا، ابن شہاب سے، سالم سے روایت ہے کہ فرمایا: میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے عرض کیا - اور ابو عبد اللہ محمد بن علی صنعانی نے مجھے مکہ میں خبر دی، اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں بیان کیا، عبد الرزاق نے ہمیں خبر دی، معمر نے عبد الملک بن عمیر سے، قبیصہ بن جابر اسدی سے روایت کیا کہ فرمایا: «میں حالت احرام میں تھا جب میں نے ایک ہرن دیکھا تو اسے تیر مارا اور وہ مر گیا۔ مجھے اس پر بہت پریشانی ہوئی تو میں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پوچھنے گیا اور میں نے ان کے پہلو میں ایک گورے نازک چہرے والے شخص کو پایا جو حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ میں نے حضرت عمر سے پوچھا تو انہوں نے حضرت عبد الرحمٰن کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: کیا تمہارے خیال میں ایک بکری اس کے لیے کافی ہے؟ فرمایا: ہاں۔ تو انہوں نے مجھے بکری ذبح کرنے کا حکم دیا۔ جب ہم ان کے پاس سے اٹھے تو میرے ساتھی نے کہا: امیر المؤمنین کو فتویٰ دینا نہیں آیا یہاں تک کہ اس آدمی سے پوچھا۔ حضرت عمر نے ان کی کچھ بات سن لی تو انہیں کوڑے سے مارا۔ پھر میری طرف متوجہ ہوئے مارنے کے لیے تو میں نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! میں نے کچھ نہیں کہا بلکہ اس نے کہا ہے۔ فرمایا: تو مجھے چھوڑ دیا۔ پھر فرمایا: تو نے حرام جانور مارنا چاہا اور فتویٰ دینے میں حد سے تجاوز کیا۔ پھر امیر المؤمنین نے فرمایا: بے شک انسان میں دس خصلتیں ہیں نو اچھی اور ایک بری اور وہ ایک بری سب کو خراب کر دیتی ہے۔ پھر فرمایا: جوانی کی ٹھوکروں سے بچو۔»
