عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ الْبَجَلِيُّ ثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ شَهِدْتُ الْمَدِينَةَ فَلَمَّا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ تَقَدَّمْتُ فَقُمْتُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ فَخَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَشَقَّ الصُّفُوفَ ثُمَّ تَقَدَّمَ وَخَرَجَ مَعَهُ رَجُلٌ أَدَمٌ خَفِيفُ اللِّحْيَةِ فَنَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَلَمَّا رَآنِي دَفَعَنِي وَقَامَ مَكَانِي وَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيَّ فَلَمَّا انْصَرَفَ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ لَا يَسُوءُكَ وَلَا يَحْزُنْكَ أَشُقَّ عَلَيْكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ «لَا يَقُومُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ إِلَّا الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ» فَقُلْتُ مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ
انگریزی ترجمہ
Abu al-Nadr al-Faqih informed us, Uthman ibn Sa'id al-Darimi narrated to us, al-Hasan ibn Bishr al-Bajali narrated to us, al-Hakam ibn Abd al-Malik narrated from Qatada from Qays ibn Ubad who said: I came to Medina. When the prayer was called, I went forward and stood in the first row. Then Hadrat Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with him) came out, made his way through the rows, and went to the front. A dark-complexioned man with a light beard came out with him. He looked at the faces of the people, and when he saw me, he pushed me aside and stood in my place. That was hard for me. When he finished (the prayer), he turned to me and said: 'Do not feel bad or sad. Was it hard for you? I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) state: "None shall stand in the first row except the Muhajirun and the Ansar."' I asked: 'Who is this?' They said: 'Ubayy ibn Ka'b.'
اردو ترجمہ
ابو النضر فقیہ نے ہمیں خبر دی، عثمان بن سعید دارمی نے ہمیں بیان کیا، حسن بن بشر بجلی نے ہمیں بیان کیا، حکم بن عبد الملک نے قتادہ سے، انہوں نے قیس بن عباد سے روایت کیا، فرمایا: میں مدینہ آیا۔ جب نماز کی اقامت ہوئی تو میں آگے بڑھ کر پہلی صف میں کھڑا ہوا۔ پھر حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نکلے اور صفوں کو چیرتے ہوئے آگے آئے۔ ان کے ساتھ ایک سانولے رنگ کے ہلکی داڑھی والے شخص نکلے۔ انہوں نے لوگوں کے چہروں میں دیکھا، جب مجھے دیکھا تو مجھے ہٹا کر میری جگہ کھڑے ہو گئے۔ یہ بات مجھ پر بہت گراں گزری۔ جب نماز ختم ہوئی تو میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: برا نہ مانو اور غمگین نہ ہو، کیا تمہیں بری لگی؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا: «پہلی صف میں صرف مہاجرین اور انصار کھڑے ہوں۔» میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: ابی بن کعب ہیں۔
