عربی (اصل)
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْعَدْلُ ثنا أَبِي ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَنْبَأَ هُشَيْمٌ أَنْبَأَ أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ} [الكوثر 1] قَالَ «الْكَوْثَرُ الْخَيْرُ الْكَثِيرُ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ» قَالَ أَبُو بِشْرٍ فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ إِنَّ أُنَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّهُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ فَقَالَ «وَالنَّهَرُ مِنَ الْخَيْرِ الْكَثِيرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ فَأَمَّا قَوْلُهُ ﷻ {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} [الكوثر 2] فَقَدِ اخْتَلَفَ الصَّحَابَةُ فِي تَأْوِيلِهَا وَأَحْسَنُهَا مَا رُوِيَ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي رِوَايَتَيْنِ الْأُولَى مِنْهُمَا مَاعلى شرط البخاري ومسلم
انگریزی ترجمہ
Ibrahim ibn Isma ibn Ibrahim al-Adl informed me — my father narrated to us — Yahya ibn Yahya narrated to us — Hushaym informed us — Abu Bishr informed us — from Sa'id ibn Jubayr — from Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) regarding {Indeed, We have granted you al-Kawthar} [al-Kawthar 1]. He said: Al-Kawthar is the abundant good that Allah granted him. Abu Bishr said: I said to Sa'id, Indeed, some people claim that it is a river in Paradise. He said: And the river is from the abundant good. This hadith is authentic according to the conditions of al-Bukhari and Muslim, and they did not narrate it. As for the saying of Allah, Exalted and Majestic is He: {So pray to your Lord and sacrifice} [al-Kawthar 2], the Companions differed in its interpretation, and the best of them is what was narrated from the Commander of the Believers Ali ibn Abi Talib in two narrations.
اردو ترجمہ
ابراہیم بن عصمۃ بن ابراہیم العدل نے مجھے خبر دی — میرے والد نے ہم سے بیان کیا — یحییٰ بن یحییٰ نے ہم سے بیان کیا — ہُشَیم نے ہمیں خبر دی — ابو بشر نے ہمیں خبر دی — سعید بن جبیر سے — حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے {اِنَّا اَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ} [الکوثر 1] کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا: کوثر وہ خیرِ کثیر (بہت زیادہ بھلائی) ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی۔ ابو بشر نے فرمایا: میں نے سعید سے کہا، بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ جنت کی ایک نہر ہے۔ فرمایا: نہر بھی خیرِ کثیر میں سے ہے۔ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرائط پر صحیح ہے اور اُنہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ جہاں تک اللہ عزّ وجلّ کے فرمان {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} [الکوثر 2] کا تعلق ہے، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اِس کی تفسیر میں اختلاف کیا ہے اور اُن میں سب سے بہتر وہ ہے جو امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے دو روایتوں میں مروی ہے۔
