عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ ثنا إِسْرَائِيلُ ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي ظِلِّ حُجْرَةٍ وَقَدْ كَادَ الظِّلُّ أَنْ يَتَقَلَّصَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «إِنَّهُ سَيَأْتِيكُمْ إِنْسَانٌ فَيَنْظُرُ إِلَيْكُمْ بِعَيْنِ شَيْطَانٍ فَإِذَا جَاءَكُمْ لَا تُكَلِّمُوهُ» فَلَمْ يَلْبَثُوا أَنْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ أَزْرَقُ أَعْوَرُ فَقَالَ حِينَ رَآهُ دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ «عَلَى مَا تَشْتُمُنِي أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ» فَقَالَ ذَرْنِي آتِكَ بِهِمْ فَانْطَلَقَ فَدَعَاهُمْ فَحَلَفُوا مَا قَالُوا وَمَا فَعَلُوا حَتَّى يُخَوَّنَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ﷻ {يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ} [المجادلة 18] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» سكت عنه الذهبي في التلخيص
انگریزی ترجمہ
Abu al-Abbas Muhammad ibn Ya'qub informed us — al-Hasan ibn Ali ibn Affan narrated to us — Amr ibn Muhammad al-Anqazi narrated to us — Isra'il narrated to us — Simak ibn Harb narrated to us — from Sa'id ibn Jubayr — from Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) who said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was in the shade of a room and the shade was about to shrink. He stated: "There will come to you a man who will look at you with the eyes of a devil. When he comes to you, do not speak to him." It was not long before a man with a blue appearance came. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) called him and stated: "Why do you and your companions revile me?"
اردو ترجمہ
ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہمیں خبر دی — حسن بن علی بن عفّان نے ہم سے بیان کیا — عمرو بن محمد العنقزی نے ہم سے بیان کیا — اسرائیل نے ہم سے بیان کیا — سماک بن حرب نے ہم سے بیان کیا — سعید بن جبیر سے — حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک حجرے کے سائے میں تھے اور سایہ سمٹنے کے قریب تھا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ابھی تمہارے پاس ایک شخص آئے گا جو تمہیں شیطان کی آنکھوں سے دیکھے گا۔ جب وہ آئے تو اُس سے بات نہ کرنا۔ زیادہ دیر نہ ہوئی کہ ایک نیلی آنکھوں والا شخص آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے بلایا اور ارشاد فرمایا: تُو اور تیرے ساتھی مجھے کیوں بُرا بھلا کہتے ہو؟
