عربی (اصل)
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْفَقِيهُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي مَزْعُورٍ ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ثنا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ {إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا} قَالَ قِيلَ لِآدَمَ أَتَأْخُذُهَا بِمَا ��ِيهَا فَإِنْ أَطَعْتَ غَفَرْتُ وَإِنْ عَصَيْتَ حَذَّرْتُكَ؟ قَالَ قَبِلْتُ قَالَ فَمَا كَانَ إِلَّا كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ غَرَبَتِ الشَّمْسُ حَتَّى أَصَابَ الذَّنْبَ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُعلى شرط البخاري ومسلم
انگریزی ترجمہ
Muhammad ibn Musa al-Faqih informed me — Ibrahim ibn Abi Talib narrated to us — Muhammad ibn Amr ibn Abi Maz'ur narrated to us — Khalid ibn al-Harith narrated to us — Shu'ba narrated to us — from Abu Bishr — from Sa'id ibn Jubayr — from Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) who said: {Indeed, We offered the Trust to the heavens and the earth and the mountains, but they declined to bear it and feared it} [al-Ahzab 72]. He said: It was said to Adam: Will you take it with all that it entails? If you obey, you shall be forgiven; and if you disobey, you have been warned. He said: I accept. He said: It was not but as the time between the Asr prayer and sunset before he committed the sin. This hadith is authentic according to the conditions of al-Bukhari and Muslim, though they did not narrate it.
اردو ترجمہ
محمد بن موسیٰ الفقیہ نے مجھے خبر دی — ابراہیم بن ابی طالب نے ہم سے بیان کیا — محمد بن عمرو بن ابی مزعور نے ہم سے بیان کیا — خالد بن الحارث نے ہم سے بیان کیا — شعبہ نے ہم سے بیان کیا — ابو بشر سے — سعید بن جبیر سے — حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ {بے شک ہم نے امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو اُنہوں نے اُسے اٹھانے سے انکار کیا اور اُس سے ڈر گئے} [الاحزاب 72] کے بارے میں فرمایا: آدم علیہ السلام سے کہا گیا: کیا تم اسے اُس کی تمام شرائط کے ساتھ قبول کرو گے؟ اگر اطاعت کرو گے تو بخش دیا جائے گا اور اگر نافرمانی کرو گے تو تمہیں خبردار کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا: میں قبول کرتا ہوں۔ فرمایا: نمازِ عصر سے سورج ڈوبنے تک کے وقفے جتنا ہی وقت ہوا تھا کہ اُنہوں نے گناہ کر لیا۔ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط پر صحیح ہے، مگر اُنہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
