عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْوَاسِطِيُّ ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «مَنْ يُبَايِعُنِي عَلَى هَذِهِ الْآيَاتِ» ثُمَّ قَرَأَ {قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ} [الأنعام 151] حَتَّى خَتَمَ الْآيَاتِ الثَّلَاثَ فَمَنْ وَفَّى فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنِ انْتَقَصَ شَيْئًا أَدْرَكَهُ اللَّهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا كَانَتْ عُقُوبَتَهُ وَمَنْ أَخَّرَ إِلَى الْآخِرَةِ كَانَ أَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» إِنَّمَا اتَّفَقَا جَمِيعًا عَلَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ عُبَادَةَ «بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا» وَقَدْ رَوَى سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ الْوَاسِطِيُّ كِلَا الْحَدِيثَيْنِ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُنْسَبَ إِلَى الْوَهْمِ فِي أَحَدِ الْحَدِيثَيْنِ إِذَا جَمَعَ بَيْنَهُمَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ صحيح
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ubadah ibn al-Samit (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Who will give me the pledge of allegiance upon these verses? Then he recited {Say: Come, I will recite what your Lord has prohibited for you} [al-An'am 151] until he completed the three verses. Whoever fulfills them, his reward is upon Allah. And whoever falls short in something, and Allah catches him for it in this world, that shall be his punishment. And whoever is deferred to the Hereafter, his affair is with Allah — if He wills, He will punish him, and if He wills, He will forgive him. This hadith has an authentic chain of narration, though they did not record it.
اردو ترجمہ
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کون ان آیات پر مجھ سے بیعت کرتا ہے؟ پھر آپ نے تلاوت فرمائی {کہہ دو آؤ میں تمہیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کیا ہے} [الانعام 151] یہاں تک کہ تینوں آیات مکمل کیں۔ جس نے پورا کیا اس کا اجر اللہ پر ہے۔ اور جس نے کسی چیز میں کمی کی اور اللہ نے دنیا میں اسے پکڑ لیا تو یہ اس کی سزا ہوگی۔ اور جسے آخرت تک مؤخر کیا گیا تو اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے — چاہے تو عذاب دے اور چاہے تو معاف کر دے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
