عربی (اصل)
حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ الْمَازِنِيُّ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ «إِنَّ » أَوَّلَ مَا يُهَرَاقُ مِنْ دَمِ الشَّهِيدِ يُغْفَرُ لَهُ ذُنُوبُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ «إِنَّ » أَوَّلَ مَا يُهَرَاقُ مِنْ دَمِ الشَّهِيدِ يُغْفَرُ لَهُ ذُنُوبُهُ
انگریزی ترجمہ
Hadrat Jabir ibn Abdullah (may Allah be well pleased with them both) narrated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) missed Hamza when the people returned from the battle. A man said: 'I saw him by those trees saying: I am the lion of Allah and the lion of His Messenger. O Allah, I disassociate myself from what these people—Abu Sufyan and his companions—have brought, and I apologize to You for what these people have done by their retreat.' So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) went toward him, and when he saw his side, he wept. When he saw how he had been mutilated, he sobbed. Then he said: 'Is there no shroud?' An Ansari man stood up and threw a cloth over him, then another stood up and threw another cloth. He said: 'O Jabir, this cloth is for your father, and this one is for my uncle Hamza.' Then Hamza was brought and the Prophet prayed over him, then the martyrs were brought and placed beside Hamza, and he would pray over them, then they would be lifted while Hamza remained, until he had prayed over all the martyrs. Then later at night, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sent for me and stated: 'O Jabir, indeed Allah, Blessed and Exalted, has given life to your father and spoke to him directly.' I said: 'And He spoke to him?' He said: 'He said to him: Wish for something.' He said: 'I wish that You return my soul, recreate my body as it was, and send me back to Your Prophet so that I may fight in the cause of Allah and be killed once more.' He said: 'I have decreed that they shall not return.' And he (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'The master of the martyrs before Allah on the Day of Resurrection is Hamza.'
اردو ترجمہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تلاش فرمایا جب لوگ لڑائی سے لوٹے۔ ایک شخص نے کہا: میں نے انہیں ان درختوں کے پاس دیکھا تھا اور وہ کہہ رہے تھے: میں اللہ کا شیر ہوں اور اس کے رسول کا شیر ہوں۔ اے اللہ! میں ان لوگوں یعنی ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کی لائی ہوئی چیز سے بری ہوں اور ان لوگوں کے بھاگنے سے تیرے سامنے معذرت کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف جھکے، جب آپ نے ان کا پہلو دیکھا تو رو دیے اور جب دیکھا کہ ان کا مُثلہ کیا گیا ہے تو سسکیاں بھریں۔ پھر فرمایا: کفن نہیں ہے؟ ایک انصاری نے کھڑے ہو کر ایک کپڑا ان پر ڈالا، پھر دوسرے نے ایک اور کپڑا ڈالا۔ آپ نے فرمایا: اے جابر! یہ کپڑا تمہارے والد کا ہے اور یہ میرے چچا حمزہ کا ہے۔ پھر حمزہ لائے گئے اور آپ نے ان پر نماز جنازہ پڑھی، پھر شہداء لائے جاتے اور حمزہ کے پہلو میں رکھے جاتے، آپ نماز پڑھتے پھر وہ اٹھائے جاتے اور حمزہ رہتے، یہاں تک کہ آپ نے تمام شہداء پر نماز پڑھ دی۔ رات کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے میرے پاس پیغام بھیجا اور فرمایا: اے جابر! اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کلام فرمایا۔ میں نے عرض کیا: ان سے کلام فرمایا؟ فرمایا: ان سے فرمایا: تمنا کرو۔ انہوں نے کہا: میری تمنا ہے کہ تو میری روح لوٹا دے، میرے جسم کو پہلے جیسا بنا دے اور مجھے اپنے نبی کی طرف واپس بھیج دے تاکہ اللہ کی راہ میں لڑوں اور دوبارہ شہید ہوں۔ فرمایا: میرا فیصلہ ہے کہ وہ واپس نہیں لوٹائے جائیں گے۔ اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک شہیدوں کے سردار حمزہ ہیں۔
