عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى ثنا مُسَدَّدٌ ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ فَيَجِدُ الْحَاطِبَ مِنَ الْحُطَّابِ مَعَهُ شَجَرَةٌ رَطْبٌ قَدْ عَضَّدَهُ مِنْ بَعْضِ شَجَرِ الْمَدِينَةِ فَيَأْخُذُ سَلَبَهُ فَيُكَلِّمُهُ فِيهِ وَقَالَ بِشْرٌ فَتَكَلَّمَ فِيهِ فَيَقُولُ «لَا أَدَعُ غَنِيمَةً غَنَّمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَنَا مِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ مَالًا»
انگریزی ترجمہ
Hadrat Sa'd ibn Abi Waqqas (may Allah be well pleased with him) used to go out from Madinah and find a woodcutter carrying a fresh branch he had cut from one of the trees of Madinah. He would take his belongings as a penalty. When spoken to about it, he would say: 'I will not leave a spoil that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) granted me, and I am among the wealthiest of people.'
اردو ترجمہ
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ سے باہر نکلتے تو لکڑی کاٹنے والے کو پاتے جس کے پاس مدینہ کے کسی درخت سے کاٹی ہوئی تازہ شاخ ہوتی، تو وہ اس کا سامان بطور جرمانہ لے لیتے۔ جب ان سے اس بارے میں بات ہوتی تو فرماتے: میں وہ غنیمت نہیں چھوڑوں گا جو حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے عطا فرمائی ہے، حالانکہ میں لوگوں میں سب سے زیادہ مالدار ہوں۔
