عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ثنا مُسَدَّدٌ ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ الْعَنْبَرِيُّ عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْحَجَّ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا حُجَّ بِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ قَالَتْ فَحَجَّ بِي عَلَى نَاضِحِكَ فَقَالَ ذَاكَ نَعْتَقِبُهُ أَنَا وَوَلَدُكِ قَالَتْ فَحُجَّ بِي عَلَى جَمَلِكَ فُلَانٍ قَالَ ذَلِكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَتْ فَبِعْ تَمْرَ رِقِّكَ قَالَ ذَاكَ قُوتِي وَقُوتُكِ قَالَ فَلَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ ﷺ مِنْ مَكَّةَ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ زَوْجَهَا فَقَالَتْ أقْرِئْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مِنِّي السَّلَامَ وَسَلْهُ مَا يَعْدِلُ حَجَّةً مَعَكَ؟ فَأَتَى زَوْجُهَا النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ امْرَأَتِي تُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَإِنَّهَا قَالَتْ أَنَّ أَحُجَّ بِهَا مَعَكَ فَقُلْتُ لَهَا لَيْسَ عِنْدِي قَالَتْ فَحَجَّ بِي عَلَى جَمَلِي فُلَانٍ فَقُلْتُ لَهَا ذَلِكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ «أَمَا إِنَّكِ لَوْ كُنْتِ حَجَجْتِ بِهَا كَانَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» فَقَالَ فَضَحِكَ النَّبِيُّ ﷺ تَعَجُّبًا مِنْ حِرْصِهَا عَلَى الْحَجِّ قَالَ وَإِنَّهَا أَمَرْتَنِي أَنْ أَسْأَلَكَ مَا تَعْدِلُ حَجَّةً مَعَكَ؟ قَالَ «أقْرِئهَا مِنِّي السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَأَخْبِرْهَا أَنَّهَا تَعْدِلُ حَجَّةً مَعِي عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) narrated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) intended to perform Hajj. A woman said to her husband: 'Take me to Hajj with the Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).' He said: 'I have nothing on which to take you for Hajj.' She said: 'Then take me on your water-carrying camel.' He said: 'That is shared between me and your son for riding.' She said: 'Then take me on your camel, such-and-such.' He said: 'That is consecrated in the path of Allah.' She said: 'Then sell the dates of your slave.' He said: 'That is sustenance for me and you.' When the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) returned from Makkah, she sent her husband to him and said: 'Convey my greetings to the Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and ask him what equals a Hajj with you?' Her husband came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and said: 'O Messenger of Allah, my wife conveys her greetings and the mercy of Allah to you. She wanted me to take her for Hajj with you, and I told her I have nothing. She said to take her on my camel, and I told her it is consecrated in the path of Allah.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Had you taken her for Hajj on it, it would have been in the path of Allah.' He laughed in amazement at her eagerness for Hajj. The man said: 'She has asked me to ask you what equals a Hajj with you?' He stated: 'Convey to her my greetings and the mercy of Allah, and inform her that an Umrah in Ramadan equals a Hajj with me.'
اردو ترجمہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا ارادہ فرمایا۔ ایک عورت نے اپنے شوہر سے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کرا دو۔ اس نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں جس پر تمہیں حج کراؤں۔ اس نے کہا: تو مجھے اپنے پانی لادنے والے اونٹ پر لے چلو۔ اس نے کہا: وہ تو میرے اور تمہارے بیٹے کی باری باری سواری ہے۔ اس نے کہا: تو مجھے اپنے فلاں اونٹ پر لے چلو۔ اس نے کہا: وہ تو اللہ کی راہ میں وقف ہے۔ اس نے کہا: تو اپنے غلام کی کھجوریں بیچ دو۔ اس نے کہا: وہ تو میرا اور تمہارا رزق ہے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے واپس تشریف لائے تو اس نے اپنے شوہر کو آپ کے پاس بھیجا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو میرا سلام پہنچاؤ اور پوچھو کہ آپ کے ساتھ حج کے برابر کیا ہے؟ اس کا شوہر نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بیوی آپ کو سلام اور اللہ کی رحمت عرض کرتی ہے اور وہ چاہتی تھی کہ میں اسے آپ کے ساتھ حج کراؤں۔ میں نے اسے بتایا کہ میرے پاس کچھ نہیں۔ اس نے کہا مجھے اپنے اونٹ پر لے چلو، میں نے کہا وہ اللہ کی راہ میں وقف ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم اسے اس پر حج کرا لے جاتے تو وہ بھی اللہ کی راہ میں ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کے حج کی شدید حرص پر تعجب سے ہنسے۔ اس نے عرض کیا: اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ آپ سے پوچھوں کہ آپ کے ساتھ حج کے برابر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے میرا سلام اور اللہ کی رحمت پہنچاؤ اور بتاؤ کہ رمضان میں عمرہ میرے ساتھ حج کے برابر ہے۔
