عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ «مِنْ سُنَّةِ الْحَجِّ أَنْ يُصَلِّيَ الْإِمَامُ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ وَالصُّبْحَ بِمِنًى ثُمَّ يَغْدُوَ إِلَى عَرَفَةَ فَيُقْبِلَ حَيْثُ قُضِيَ لَهُ حَتَّى إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ خَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ وَقَفَ بِعَرَفَاتٍ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ ثُمَّ يُفِيضَ فَيُصَلِّيَ بِالْمُزْدَلِفَةِ أَوْ حَيْثُ قَضَى اللَّهُ ثُمَّ يَقِفَ بِجَمْعٍ حَتَّى يُسْفِرَ وَيَدْفَعَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَإِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الْكُبْرَى حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ حَرُمَ عَلَيْهِ إِلَّا النِّسَاءُ وَالطِّيبُ حَتَّى يَزُورَ الْبَيْتَ» هَذَا حَدِيثٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ
انگریزی ترجمہ
Narrated from Hadrat Abdullah ibn al-Zubayr (may Allah be well pleased with them both) who said: "From the Sunnah of Hajj is that the Imam should pray Dhuhr, Asr, Maghrib, Isha, and Fajr at Mina, then proceed to Arafah in the morning, going wherever Allah decrees for him. When the sun passes its zenith, he should address the people, then pray Dhuhr and Asr combined. Then he should stand at Arafat until the sun sets, then depart and pray at Muzdalifah — or wherever Allah decrees. Then he should stand at Jam' (Muzdalifah) until dawn becomes bright, and depart before sunrise. When he stones the major pillar (Jamrat al-Aqabah), everything that was forbidden to him becomes permissible except women and perfume, until he visits the House (tawaf al-ifadah)." This hadith meets the conditions of the two Shaykhs, yet they did not record it.
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: "حج کی سنت یہ ہے کہ امام منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر پڑھے، پھر صبح عرفہ کی طرف جائے اور جہاں اللہ نے مقدر فرمایا ہو وہاں جائے۔ جب سورج ڈھل جائے تو لوگوں کو خطبہ دے، پھر ظہر اور عصر جمع کر کے پڑھے۔ پھر عرفات میں کھڑا رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، پھر روانہ ہو اور مزدلفہ میں نماز پڑھے — یا جہاں اللہ نے مقدر فرمایا ہو۔ پھر جمع (مزدلفہ) میں کھڑا رہے یہاں تک کہ صبح روشن ہو جائے اور سورج طلوع ہونے سے پہلے روانہ ہو۔ جب جمرہ کبریٰ (جمرہ عقبہ) کو رمی کرے تو جو کچھ اس پر حرام تھا سب حلال ہو جائے سوائے عورتوں اور خوشبو کے، یہاں تک کہ وہ بیت اللہ کا طواف (طواف افاضہ) کرے۔" یہ حدیث شیخین کی شرط پر ہے مگر انہوں نے اسے نقل نہیں کیا۔
