عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْعَدْلُ الصَّيْدَلَانِيُّ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَمَا زَالَ يُحَدِّثُنَا حَتَّى خَرَجَ الْإِمَامُ فَجَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَخْطُبُ فَقَالَ لَهُ «اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ وَآنَيْتَ»
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abdullah ibn Busr (may Allah be well pleased with him) narrated: I was sitting with Abdullah ibn Busr on a Friday, and he kept talking to us until the Imam came out. Then a man came stepping over people's necks while the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was delivering the sermon. He (the Prophet) said to him: 'Sit down, for you have caused annoyance and have come late.'
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں جمعہ کے دن عبداللہ بن بسر کے ساتھ بیٹھا تھا، وہ ہم سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ امام نکلے۔ پھر ایک شخص آیا لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ آپ نے اسے فرمایا: 'بیٹھ جاؤ، تم نے تکلیف دی اور دیر سے آئے۔'
