عربی (اصل)
أَخْبَرَنَاأَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَتْنَاعَبْدَةُ، عَنْخَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ:"اقْرَءُوا الْمُنَجِّيَةَ، وَهِيَ:(الم تَنْزِيلُ)، فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَقْرَؤُهَا مَا يَقْرَأُ شَيْئًا غَيْرَهَا، وَكَانَ كَثِيرَ الْخَطَايَا، فَنَشَرَتْ جَنَاحَهَا عَلَيْهِ، وَقَالَتْ: رَبِّ اغْفِرْ لَهُ، فَإِنَّهُ كَانَ يُكْثِرُ قِرَاءَتِي، فَشَفَّعَهَا الرَّبُّ فِيهِ، وَقَالَ: اكْتُبُوا لَهُ بِكُلِّ خَطِيئَةٍ حَسَنَةً، وَارْفَعُوا لَهُ دَرَجَةً".
انگریزی ترجمہ
Abdullah said: "This Quran is the banquet of Allah. Whoever enters it is safe. Whoever loves the Quran, let him rejoice." Abu Muhammad said: 'the banquet' means 'the feast/invitation'. Another said: 'the gift of Allah.'
اردو ترجمہ
خالد بن معدان نے کہا: نجات دلانے والی سورة پڑھا کرو، مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک آدمی اس کو پڑھا کرتا تھا، اس کے علاوہ کچھ نہ پڑھتا تھا، وہ بہت گنہگار تھا، اس سورت نے اپنے پر اس شخص پر پھیلا دیئے اور اللہ تعالیٰ سے درخواست کی: اے رب! یہ آدمی میری تلاوت کثرت سے کیا کرتا تھا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی شفاعت قبول فرما لی اور فرمایا: اس کی ہر خطا کے بدلے میں ایک نیکی لکھو اور ایک درجہ بلند کر دو (بعض نسخ میں منجیہ کے بعد«الم تنزيل السجدة»ہے)۔ یعنی یہ سورت نجات دلانے والی ہے۔[سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3440]
