عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ :" الْبَيِّعَانِ إِذَا اخْتَلَفَا وَالْمَبيعُ قَائِمٌ بِعَيْنِهِ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ، أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ "
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abdullah (may Allah be well pleased with him) narrated: I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: 'When the buyer and seller disagree while the goods are still intact and there is no evidence between them, the statement is what the seller says, or they may mutually cancel the transaction.'
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: 'جب خریدار اور بیچنے والے میں اختلاف ہو جائے اور مبیع (بکا ہوا سامان) بعینہ موجود ہو اور ان کے درمیان کوئی گواہ نہ ہو، تو بات وہ ہو گی جو بیچنے والا کہے، یا دونوں بیع واپس کر لیں۔'
