عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ :" كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ إِلا هذَا السَّمُرُ، وَوَرَقُ الْحُبْلَةِ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ، مَالَهُ خِلْطٌ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي ! لَقَدْ خِبْتُ إِذَنْ وَضَلَّ عَمَلِيَهْ "
انگریزی ترجمہ
Hadrat Sa'd ibn Abi Waqqas (may Allah be well pleased with him) narrated: We used to go on military expeditions with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and we had no food except the leaves of the acacia tree and the hublah plant, until one of us would relieve himself like a sheep — with no substance in his droppings. Yet now Banu Asad want to teach me about religion! I would indeed be lost and my efforts wasted.
اردو ترجمہ
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوات میں جاتے تھے اور ہمارے پاس ببول کے پتوں اور حبلہ کے درخت کے پتوں کے سوا کھانا نہ ہوتا تھا، یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی ایسے پاخانہ کرتا جیسے بکری کی مینگنیاں — جس میں کچھ نہ ہوتا۔ اب بنو اسد مجھے دین سکھانا چاہتے ہیں! تو میں ہار گیا اور میری محنت ضائع ہوئی۔
