عربی (اصل)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ, عَنْ أَبِيهِ, عَنْ جَدِّهِ; { أَنَّ اِمْرَأَةً أَتَتِ اَلنَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم -وَمَعَهَا اِبْنَةٌ لَهَا, وَفِي يَدِ اِبْنَتِهَا مِسْكَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ, فَقَالَ لَهَا: "أَتُعْطِينَ زَكَاةَ هَذَا?" قَالَتْ: لَا. قَالَ: "أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اَللَّهُ بِهِمَا يَوْمَ اَلْقِيَامَةِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ?". فَأَلْقَتْهُمَا. } رَوَاهُ اَلثَّلَاثَةُ, وَإِسْنَادُهُ قَوِيّ ٌ 1 .1 - حسن. رواه أبو داود ( 1563 )، والنسائي ( 5 / 38 )، والترمذي ( 637 )، وقد اختلف في هذا الحديث، والحق أنه من ضعفه لا حجة له في ذلك، فمثلا ضعفه الترمذي براويين من رواته ولكن لم يتفردا بذلك، وأعله بعضهم بالإرسال، ولكنها علة غير قادحة كما قال الحافظ في "الدراية"، وفي "الأصل" زيادة تفصيل.
انگریزی ترجمہ
Hadrat Amro bin Shu’aib narrated on the authority of his father, who reported on the authority of his grandfather (RAA) that a woman came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) accompanied by her daughter, who wore two heavy gold bangles. He said to her, “Do you pay Zakah on them?” She said, ‘No.’ He then said, “Are you pleased that Allah may put two bangles of fire on your wrist on the Day of Judgment?” She then threw them away. Related by the three Imams with a strong chain of narrators.
اردو ترجمہ
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی جس کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے کنگن تھے۔ آپ نے فرمایا: کیا تو ان کی زکاۃ ادا کرتی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تو پسند کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تجھے آگ کے دو کنگن پہنائے؟ اس نے انہیں اتار کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ (حضرت ابوداؤد، نسائی)
