عربی (اصل)
وَعَنْهَا: { أَنْ أَفْلَحَ -أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ- جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا بَعْدَ اَلْحِجَابِ. قَالَتْ: فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ, فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -أَخْبَرْتُهُ بِاَلَّذِي صَنَعْتُ, فَأَمَرَنِي أَنْ آذَنَ لَهُ عَلَيَّ. وَقَالَ: "إِنَّهُ عَمُّكِ". } مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ . 1 .1 - صحيح. رواه البخاري (2644) وأطرافه، ومسلم (1445) وفي سياقه من الحافظ نوع تصرف.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat :Aflah (her foster suckling uncle), brother of Abul-Qais, came and asked her permission to enter after the Hijab (was instituted for women). She said, "I refused to allow him in and when Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) came, I told him about what I had done, so he commanded me to give him permission to enter where I am and said, 'He is your paternal uncle.'" .
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: افلح، ابو القعیس کے بھائی، پردے کے بعد ان سے ملنے کی اجازت مانگنے آئے۔ وہ فرماتی ہیں: میں نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے بتایا کہ میں نے کیا کیا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ انہیں اجازت دوں اور فرمایا: وہ تمہارے چچا ہیں (یعنی رضاعی چچا)۔ متفق علیہ۔
