انگریزی ترجمہ
Narrated Ibn Abbas (may Allah be pleased with them): A dispute between two women was presented to him. They were sewing in a room when one of them came out with a needle (awl) stuck in her palm. She accused the other woman. When the case was brought before Ibn Abbas, he said: "The Messenger of Allah said: 'If people were given claims based merely on their allegations, some would claim others' blood and property.' Admonish the accused woman by reminding her of Allah and reciting this verse: 'Those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant and their oaths...' (Al-Imran: 77)" When they did so, the woman became frightened and confessed. Ibn Abbas then said: "The Messenger of Allah said: 'The oath is upon the defendant.'"
اردو ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہان سے دو عورتوں کا جھگڑا بیان کیا گیا جو کہ ایک گھر یا کوٹھڑی میں بیٹھی موزہ سی رہی تھیں، اتنے میں (ان دونوں میں سے) ایک باہر نکلی اس کی ہتھیلی میں موزہ سینے کی سوئی (آر) چھبو دی گئی تھی اس نے دوسری عورت پر دعویٰ کیا (جو اس کے ساتھ تھی) جب یہ مقدمہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس لایا گیا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا ہے:”اگر لوگوں کو دعویٰ کرنے کی بنا پر ان کے حق میں فیصلہ کر دیا جاتا (جو دعویٰ کرتے) تو کتنوں کے خون اور مال تلف ہو جاتے۔“تم اس دوسری عورت کو (مدعی علیہا) کو اللہ تعالیٰ سے ڈراؤ اور یہ آیت سناؤ”بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیتے ہیں ....“جب لوگوں نے ایسا کیا تو (وہ ڈر گئی اور) اس نے جرم کا اقرار کیا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا ہے:”قسم مدعی علیہ پر ہے۔“[مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1725]
