عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَسَدِيَّ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثَ، فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ، وَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ مِزْمَارَةُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ فَقَالَ " دَعْهُمَا " فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا. وَكَانَ يَوْمَ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ، فَإِمَّا سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَإِمَّا قَالَ " تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ ". فَقُلْتُ نَعَمْ. فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ خَدِّي عَلَى خَدِّهِ، وَهُوَ يَقُولُ " دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ ". حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ قَالَ " حَسْبُكِ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " فَاذْهَبِي ".
انگریزی ترجمہ
Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) says: 'The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came to me while two girls were singing the songs of Bu'ath. He lay down on the bed and turned his face away. Hadrat Abu Bakr (may Allah be well pleased with him) came in, rebuked me, and said: The flute of Shaytan near the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)! The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) turned to him and stated: Leave them. When he was not paying attention, I signaled them and they went out. It was the day of Eid, and the Abyssinians were playing with shields and spears. Either I asked the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) or he said: Do you wish to watch? I submitted: Yes! So he stood me behind him — my cheek against his cheek — and he was saying: Carry on, O Banu Arfidah! When I grew tired of watching, he said: Enough? I said: Yes. He said: Then go.'
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے پاس دو لڑکیاں بُعاث کے اشعار گا رہی تھیں۔ آپ بستر پر لیٹ گئے اور منہ پھیر لیا۔ اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور مجھے ڈانٹا اور فرمایا: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شیطان کی بانسری! رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: ان کو رہنے دو۔ جب وہ غافل ہوئے تو میں نے اشارہ سے انہیں بھیج دیا اور وہ نکل گئیں۔ اور عید کا دن تھا، حبشی ڈھالوں اور نیزوں سے کھیل رہے تھے۔ یا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے خود پوچھا یا آپ نے فرمایا: کیا تم دیکھنا چاہتی ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! تو آپ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کیا — میرا رخسار آپ کے رخسار سے لگا ہوا تھا — اور فرما رہے تھے: جاری رکھو اے بنی ارفدہ! جب مجھے بوریت ہوئی تو فرمایا: بس؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: تو جاؤ۔
