عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ قَالَ جَلَسَ إِلَىَّ عُمَرُ فِي مَجْلِسِكَ هَذَا فَقَالَ هَمَمْتُ أَنْ لاَ أَدَعَ فِيهَا صَفْرَاءَ وَلاَ بَيْضَاءَ إِلاَّ قَسَمْتُهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ. قُلْتُ مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ. قَالَ لِمَ. قُلْتُ لَمْ يَفْعَلْهُ صَاحِبَاكَ قَالَ هُمَا الْمَرْآنِ يُقْتَدَى بِهِمَا.
انگریزی ترجمہ
Amr bin Abbas narrated to us, he said Hadrat Abd al-Rahman bin Mahdi narrated to us, he said Sufyan al-Thawri narrated to us, from Wasil, from Abu Wa'il (upon him be mercy) who said: I sat in the Sacred Mosque (al-Masjid al-Haram) with Shaybah bin Uthman al-Hajabi (the custodian of the Ka'bah), and he said: "Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) sat with me at this very place where you are sitting and said, 'I intend not to leave any gold or silver in the Ka'bah but to distribute it all among the Muslims.' I said, 'You cannot do that.' He asked, 'Why?' I said, 'Your two companions (the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), blessings and peace of Allah be upon him, and Hadrat Abu Bakr al-Siddiq, may Allah be well pleased with him) did not do so.' Upon that, Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) said, 'They are the two whom one must follow.'"
اردو ترجمہ
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے واصل نے، ان سے حضرت ابووائل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بیان کیا کہ میں مسجد حرام میں شیبہ بن حضرت عثمان حجبی (کعبہ شریف کے کلیدبردار) کے پاس بیٹھا تو انہوں نے فرمایا: جہاں تم بیٹھے ہو وہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے پاس بیٹھے تھے اور فرمایا: میرا ارادہ ہے کہ کعبہ شریف میں کوئی سونا چاندی نہ چھوڑوں بلکہ سب مسلمانوں میں تقسیم کر دوں۔ میں نے عرض کیا: آپ ایسا نہیں کر سکتے۔ فرمایا: کیوں؟ میں نے عرض کیا: آپ کے دونوں ساتھیوں (رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے ایسا نہیں فرمایا تھا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: وہ دونوں ایسے بزرگ ہیں جن کی اقتداء لازم ہے۔
