عربی (اصل)
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِهِمْ صَلاَةَ الظُّهْرِ، فَزَادَ أَوْ نَقَصَ مِنْهَا ـ قَالَ مَنْصُورٌ لاَ أَدْرِي إِبْرَاهِيمُ وَهِمَ أَمْ عَلْقَمَةُ ـ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقَصُرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ قَالَ " وَمَا ذَاكَ ". قَالُوا صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا. قَالَ فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ " هَاتَانِ السَّجْدَتَانِ لِمَنْ لاَ يَدْرِي، زَادَ فِي صَلاَتِهِ أَمْ نَقَصَ، فَيَتَحَرَّى الصَّوَابَ، فَيُتِمُّ مَا بَقِيَ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ ".
انگریزی ترجمہ
Ishaq ibn Ibrahim narrated to me, he heard 'Abd al-'Aziz ibn 'Abd al-Samad, Mansur narrated to us, from Ibrahim, from 'Alqamah, from Hadrat Ibn Mas'ud (may Allah be well pleased with him), that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) led them in Zuhr prayer and added or reduced (rak'ahs) in it — Mansur said: I do not know whether Ibrahim was mistaken or 'Alqamah — it was said: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Has the prayer been shortened or have you forgotten? He stated: "What is the matter?" They said: You prayed such-and-such (rak'ahs). Then he performed two prostrations with them and stated: "These two prostrations are for the one who does not know whether he added or reduced in his prayer. So let him estimate what is correct and complete what remains, then perform two prostrations."
اردو ترجمہ
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے عبدالعزیز بن عبدالصمد سے سنا، ہم سے منصور نے بیان کیا، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ نبی اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو نمازِ ظہر پڑھائی تو اس میں زیادہ یا کم پڑھ دیا ـ منصور نے کہا: مجھے نہیں معلوم ابراہیم کو وہم ہوا یا علقمہ کو ـ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: "کیا بات ہے؟" لوگوں نے عرض کیا: آپ نے اتنی اتنی رکعت پڑھی ہے۔ پھر آپ نے ان کے ساتھ دو سجدے کیے، پھر ارشاد فرمایا: "یہ دو سجدے اس شخص کے لیے ہیں جسے نہ معلوم ہو کہ اس نے نماز میں زیادہ پڑھا ہے یا کم۔ پس وہ صحیح کا اندازہ لگائے اور جو باقی ہو اسے پورا کرے، پھر دو سجدے کرے۔"
