عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا، قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ، تَقُولُ دَخَلَ عَلَىَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَهْوَ مُغْضَبٌ فَقُلْتُ مَا أَغْضَبَكَ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا إِلاَّ أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا.
انگریزی ترجمہ
Hadrat Umm al-Darda (may Allah be well pleased with her) narrates that Hadrat Abu al-Darda (may Allah be well pleased with him) once came home in an angry mood. She asked: 'What has angered you?' He replied: 'By Allah, I do not find anything of the practice of the Ummah of Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) remaining except that they offer prayer in congregation.'
اردو ترجمہ
حضرت ام الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ غصے کی حالت میں گھر تشریف لائے۔ میں نے پوچھا: کس بات نے آپ کو ناراض کیا؟ فرمایا: اللہ کی قسم! میں امت محمدیہ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) میں (سنت نبوی کے مطابق) کوئی بات نہیں پاتا سوائے اس کے کہ لوگ جماعت سے نماز پڑھ لیتے ہیں۔
