عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ قَالَ ـ ذَكَرُوا ـ أَنْ يَعْلَمُوا وَقْتَ الصَّلاَةِ بِشَىْءٍ يَعْرِفُونَهُ، فَذَكَرُوا أَنْ يُورُوا نَارًا أَوْ يَضْرِبُوا نَاقُوسًا، فَأُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الإِقَامَةَ.
انگریزی ترجمہ
Hadrat Anas bin Malik (may Allah be well pleased with him) narrates that when the number of Muslims increased, they discussed the matter of making the time of prayer known through some recognizable means. Some suggested lighting a fire and others proposed ringing a bell. Eventually, Hadrat Bilal (may Allah be well pleased with him) was commanded to pronounce the words of the Adhan twice and the words of the Iqama once.
اردو ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہو گئی تو انہوں نے مشورہ کیا کہ کسی ایسی چیز سے نماز کے وقت کا اعلان کیا جائے جسے سب پہچان لیں۔ کچھ لوگوں نے آگ روشن کرنے کا ذکر کیا اور کچھ نے ناقوس بجانے کا۔ آخر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ کہیں اور اقامت کے کلمات ایک ایک مرتبہ۔
