عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ يَوْمَ مَاتَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ عَلَيْكُمْ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَالْوَقَارِ وَالسَّكِينَةِ حَتَّى يَأْتِيَكُمْ أَمِيرٌ، فَإِنَّمَا يَأْتِيكُمُ الآنَ، ثُمَّ قَالَ اسْتَعْفُوا لأَمِيرِكُمْ، فَإِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ الْعَفْوَ. ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الإِسْلاَمِ. فَشَرَطَ عَلَىَّ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ. فَبَايَعْتُهُ عَلَى هَذَا، وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ إِنِّي لَنَاصِحٌ لَكُمْ. ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَنَزَلَ.
انگریزی ترجمہ
Ziyad bin Ilaqa narrates: I heard Hadrat Jarir bin Abdullah (may Allah be well pleased with him) on the day Mughira bin Shu'ba passed away. He stood up, praised Allah the Exalted and glorified Him, then said: You must fear Allah alone, Who has no partner, and maintain composure and tranquillity until a new governor comes to you — and he shall come soon. Then he said: Seek forgiveness for your departed governor, for he loved to forgive. Then he said: After praising Allah and sending blessings — I once came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and submitted: I pledge allegiance to you upon Islam. He (blessings and peace of Allah be upon him) placed the condition upon me of being sincere to every Muslim. So I pledged allegiance to him upon that. By the Lord of this mosque, I am indeed sincere to you. Then he sought forgiveness and came down from the pulpit.
اردو ترجمہ
زیاد بن علاقہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، جس دن مغیرہ بن شعبہ کا انتقال ہوا، وہ کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: تم پر لازم ہے کہ اکیلے اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس کا کوئی شریک نہیں، اور سکون و وقار اختیار کرو یہاں تک کہ تمہارے پاس نیا حاکم آ جائے، اور وہ ابھی آنے والا ہے۔ پھر فرمایا: اپنے (مرحوم) حاکم کے لیے مغفرت کی دعا کرو کیونکہ وہ معاف کرنا پسند کرتا تھا۔ پھر فرمایا: حمد و صلوٰۃ کے بعد! میں ایک بار نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں آپ سے اسلام پر بیعت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ہر مسلمان کی خیرخواہی کی شرط رکھی۔ پس میں نے اس شرط پر آپ سے بیعت کی۔ اس مسجد کے ربّ کی قسم! بے شک میں تمہارا خیرخواہ ہوں۔ پھر استغفار کیا اور (منبر سے) اتر آئے۔
