عربی (اصل)
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْتَقَى آدَمُ وَمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى لآدَمَ أَنْتَ الَّذِي أَشْقَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ قَالَ لَهُ آدَمُ أَنْتَ الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ، وَاصْطَفَاكَ لِنَفْسِهِ وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ التَّوْرَاةَ قَالَ نَعَمْ. قَالَ فَوَجَدْتَهَا كُتِبَ عَلَىَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي قَالَ نَعَمْ. فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ". الْيَمُّ الْبَحْرُ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Abu Huraira that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "Adam (upon him be peace) and Moses (upon him be peace) met, and Moses said to Adam "You are the one who made people miserable and turned them out of Paradise." Adam said to him, "You are the one whom Allah selected for His message and whom He selected for Himself and upon whom He revealed the Torah." Moses said, 'Yes.' Adam said, "Did you find that written in my fate before my creation?' Moses said, 'Yes.' So Adam overcame Moses with this argument
اردو ترجمہ
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ( عالم مثال میں ) آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا کہ آپ ہی نے لوگوں کو پریشانی میں ڈالا اور انہیں جنت سے نکالا۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا کہ آپ وہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے پسند کیا اور خود اپنے لیے پسند کیا اور آپ پر توریت نازل کی۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ جی ہاں۔ اس پر آدم علیہ السلام نے فرمایا کہ پھر آپ نے تو دیکھا ہی ہو گا کہ میری پیدائش سے پہلے ہی یہ سب کچھ میرے لیے لکھ دیا گیا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ جی ہاں معلوم ہے۔ چنانچہ آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔ «اليم» کے معنی دریا کے ہیں۔
