عربی (اصل)
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَكَانَ بَيْنَهُمَا شَىْءٌ فَغَدَوْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَتُرِيدُ أَنْ تُقَاتِلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ، فَتُحِلُّ حَرَمَ اللَّهِ. فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَبَنِي أُمَيَّةَ مُحِلِّينَ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لاَ أُحِلُّهُ أَبَدًا. قَالَ قَالَ النَّاسُ بَايِعْ لاِبْنِ الزُّبَيْرِ. فَقُلْتُ وَأَيْنَ بِهَذَا الأَمْرِ عَنْهُ أَمَّا أَبُوهُ فَحَوَارِيُّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، يُرِيدُ الزُّبَيْرَ، وَأَمَّا جَدُّهُ فَصَاحِبُ الْغَارِ، يُرِيدُ أَبَا بَكْرٍ، وَأُمُّهُ فَذَاتُ النِّطَاقِ، يُرِيدُ أَسْمَاءَ، وَأَمَّا خَالَتُهُ فَأُمُّ الْمُؤْمِنِينَ، يُرِيدُ عَائِشَةَ، وَأَمَّا عَمَّتُهُ فَزَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، يُرِيدُ خَدِيجَةَ، وَأَمَّا عَمَّةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَدَّتُهُ، يُرِيدُ صَفِيَّةَ، ثُمَّ عَفِيفٌ فِي الإِسْلاَمِ، قَارِئٌ لِلْقُرْآنِ. وَاللَّهِ إِنْ وَصَلُونِي وَصَلُونِي مِنْ قَرِيبٍ، وَإِنْ رَبُّونِي رَبَّنِي أَكْفَاءٌ كِرَامٌ، فَآثَرَ التُّوَيْتَاتِ وَالأُسَامَاتِ وَالْحُمَيْدَاتِ، يُرِيدُ أَبْطُنًا مِنْ بَنِي أَسَدٍ بَنِي تُوَيْتٍ وَبَنِي أُسَامَةَ وَبَنِي أَسَدٍ، إِنَّ ابْنَ أَبِي الْعَاصِ بَرَزَ يَمْشِي الْقُدَمِيَّةَ، يَعْنِي عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ، وَإِنَّهُ لَوَّى ذَنَبَهُ، يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Ibn Abi Mulaika that There was a disagreement between them (i.e. Hadrat Ibn `Abbas and Ibn Az-Zubair) so I went to Hadrat Ibn `Abbas in the morning and said (to him), "Do you want to fight against Ibn Az-Zubair and thus make lawful what Allah has made unlawful (i.e. fighting in Mecca)?" Hadrat Ibn `Abbas said, "Allah forbid! Allah ordained that Ibn Az-Zubair and Bani Umaiya would permit (fighting in Mecca), but by Allah, I will never regard it as permissible." Hadrat Ibn `Abbas added. "The people asked me to take the oath of allegiance to Ibn Az-Zubair. I said, 'He is really entitled to assume authority for his father, Az-Zubair was the helper of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), his (maternal) grandfather, Hadrat Abu Bakr was (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)'s) companion in the cave, his mother, Asma' was 'Dhatun-Nitaq', his aunt, `Hadrat Aisha was the mother of the Believers, his paternal aunt, Hadrat Khadija was Umm al-Mu'minin, the wife of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), Umm al-Mu'minin,, and the paternal aunt of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was his grandmother. He himself is pious and chaste in Islam, well versed in the Knowledge of the Qur'an. By Allah! (Really, I left my relatives, Bani Umaiya for his sake though) they are my close relatives, and if they should be my rulers, they are equally apt to be so and are descended from a noble family
اردو ترجمہ
مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ ابن معین نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس اور ابن حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے درمیان بیعت کا جھگڑا پیدا ہو گیا تھا۔ میں صبح کو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا آپ عبداللہ بن حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے جنگ کرنا چاہتے ہیں، اس کے باوجود کہ اللہ کے حرم کی بےحرمتی ہو گی؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: حضرت معاذاللہ! یہ تو اللہ تعالیٰ نے ابن حضرت زبیر اور بنو امیہ ہی کے مقدر میں لکھ دیا ہے کہ وہ حرم کی بےحرمتی کریں۔ اللہ کی قسم! میں کسی صورت میں بھی اس بےحرمتی کے لیے تیار نہیں ہوں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ لوگوں نے مجھ سے کہا تھا کہ ابن حضرت زبیر سے بیعت کر لو۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے ان کی خلافت کو تسلیم کرنے میں کیا تامل ہو سکتا ہے، ان کے والد نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے حواری تھے، آپ کی مراد حضرت زبیر بن عوام سے تھی۔ ان کے نانا صاحب غار تھے، اشارہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف تھا۔ ان کی والدہ صاحب نطاقین تھیں یعنی اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔ ان کی خالہ ام المؤمنین تھیں، مراد حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تھی۔ ان کی پھوپھی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ تھیں، مراد خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تھی۔ حضرت ابن عباس کی مراد ان باتوں سے یہ تھی کہ وہ بہت سی خوبیوں کے مالک ہیں اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی ان کی دادی ہیں، اشارہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف تھا۔ اس کے علاوہ وہ خود اسلام میں ہمیشہ صاف کردار اور پاک دامن رہے اور قرآن کے عالم ہیں اور اللہ کی قسم! اگر وہ مجھ سے اچھا برتاؤ کریں تو ان کو کرنا ہی چاہئے وہ میرے بہت قریب کے رشتہ دار ہیں اور اگر وہ مجھ پر حکومت کریں تو خیر حکومت کریں وہ ہمارے برابر کے عزت والے ہیں۔ لیکن عبداللہ بن حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے تو تویت، اسامہ اور حمید کے لوگوں کو ہم پر ترجیح دی ہے۔ ان کی مراد مختلف قبائل یعنی بنو اسد، بنو تویت، بنو اسامہ اور بنو اسد سے تھی۔ ادھر ابن ابی العاص بڑی عمدگی سے چل رہا ہے یعنی عبدالملک بن مروان مسلسل پیش قدمی کر رہا ہے اور عبداللہ بن حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس کے سامنے دم دبا لی ہے۔
