It is narrated by Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) that Hadrat Abu Bakr (may Allah be well pleased with him) came from his house at as-Sunh on a horse. He dismounted, entered the mosque without speaking to anyone, entered upon Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her), and went straight to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) who was covered with a Hibara (striped Yemeni) sheet. He uncovered his blessed face, bent down, kissed him, and wept. Then he said, 'May my father and mother be sacrificed for you! By Allah, Allah will not combine two deaths upon you. The one death that was decreed for you has already come.'
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر سے جو سُنح میں تھا گھوڑے پر سوار ہو کر آئے، اترے اور مسجد میں داخل ہوئے مگر لوگوں سے بات نہیں کی یہاں تک کہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے میں آئے اور سیدھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے جو حبرہ (یمنی دھاری دار) چادر سے ڈھکے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور سے کپڑا ہٹایا اور جھک کر بوسہ دیا اور روئے۔ پھر فرمایا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں جمع نہیں فرمائے گا۔ جو ایک موت آپ کے لیے مقدر تھی وہ آ چکی ہے۔
أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ عَلَى فَرَسِهِ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنْحِ حَتَّى نَزَلَ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَلَمْ يُكَلِّمِ النَّاسَ، حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ فَتَيَمَّمَ النَّ…
صحیح بخاری
أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ عَلَى فَرَسِهِ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنْحِ حَتَّى نَزَلَ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَلَمْ يُكَلِّمِ النَّاسَ، حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ فَتَيَمَّمَ النَّ…
It is narrated by Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) that Hadrat Abu Bakr (may Allah be well pleased with him) came from his house at as-Sunh on a horse. He dismounted, entered the mosque without speaking to anyone, entered upon Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her), and went straight to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) who was covered with a Hibara (striped Yemeni) sheet. He uncovered his blessed face, bent down, kissed him, and wept. Then he said, 'May my father and mother be sacrificed for you! By Allah, Allah will not combine two deaths upon you. The one death that was decreed for you has already come.'
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر سے جو سُنح میں تھا گھوڑے پر سوار ہو کر آئے، اترے اور مسجد میں داخل ہوئے مگر لوگوں سے بات نہیں کی یہاں تک کہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے میں آئے اور سیدھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے جو حبرہ (یمنی دھاری دار) چادر سے ڈھکے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور سے کپڑا ہٹایا اور جھک کر بوسہ دیا اور روئے۔ پھر فرمایا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں جمع نہیں فرمائے گا۔ جو ایک موت آپ کے لیے مقدر تھی وہ آ چکی ہے۔