عربی (اصل)
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ جَاءَ الْعَاقِبُ وَالسَّيِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُرِيدَانِ أَنْ يُلاَعِنَاهُ، قَالَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ لاَ تَفْعَلْ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلاَعَنَّا، لاَ نُفْلِحُ نَحْنُ وَلاَ عَقِبُنَا مِنْ بَعْدِنَا. قَالاَ إِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَنَا، وَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلاً أَمِينًا، وَلاَ تَبْعَثْ مَعَنَا إِلاَّ أَمِينًا. فَقَالَ " لأَبْعَثَنَّ مَعَكُمْ رَجُلاً أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ ". فَاسْتَشْرَفَ لَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ". فَلَمَّا قَامَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ ".
انگریزی ترجمہ
Hadrat Hudhayfa (may Allah be well pleased with him) narrates that al-Aqib and as-Sayyid, the rulers of Najran, came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) with the intention of performing Mubahala (mutual imprecation). One of them said to the other, 'Do not do this, for by Allah, if he is a the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and we engage in Mubahala, neither we nor our offspring after us will be saved.' So they said, 'We shall give you whatever you ask, and send with us a trustworthy man.' The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) declared, 'I shall send with you a truly trustworthy man.' Every one of the Companions hoped to be chosen. The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) sent Hadrat Abu Ubayda bin al-Jarrah (may Allah be well pleased with him) and declared, 'This is the trustworthy one of this Ummah.'
اردو ترجمہ
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ عاقب اور سید جو نجران کے حکمران تھے، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مباہلہ کے ارادے سے آئے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ایسا نہ کرو، کیونکہ اللہ کی قسم! اگر وہ نبی ہیں اور ہم نے مباہلہ کیا تو نہ ہم بچیں گے نہ ہمارے بعد ہماری اولاد بچے گی۔ پس انہوں نے کہا: ہم آپ کو وہ دیں گے جو آپ مانگیں اور ہمارے ساتھ ایک معتبر آدمی بھیجیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمہارے ساتھ ایک سچا امین آدمی بھیجوں گا۔ صحابہ میں سے ہر ایک کو امید تھی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا اور ارشاد فرمایا: یہ اس امت کا امین ہے۔
