حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزَا خَيْبَرَ، فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلاَةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ، فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ، وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ، فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ، وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ حَسَرَ الإِزَارَ عَنْ فَخِذِهِ حَتَّى إِنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ". قَالَهَا ثَلاَثًا. قَالَ وَخَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ ـ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا ـ وَالْخَمِيسُ. يَعْنِي الْجَيْشَ، قَالَ فَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً، فَجُمِعَ السَّبْىُ، فَجَاءَ دِحْيَةُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ. قَالَ " اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً ". فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ، لاَ تَصْلُحُ إِلاَّ لَكَ. قَالَ " ادْعُوهُ بِهَا ". فَجَاءَ بِهَا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ غَيْرَهَا ". قَالَ فَأَعْتَقَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَتَزَوَّجَهَا. فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ يَا أَبَا حَمْزَةَ، مَا أَصْدَقَهَا قَالَ نَفْسَهَا، أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَرُوسًا فَقَالَ " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَىْءٌ فَلْيَجِئْ بِهِ ". وَبَسَطَ نِطَعًا، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ ـ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَدْ ذَكَرَ السَّوِيقَ ـ قَالَ فَحَاسُوا حَيْسًا، فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat Anas bin Malik (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) set out for the expedition of Khaibar. We offered the Fajr prayer there in the early darkness. Then the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) mounted his ride, and Hadrat Abu Hadrat Talhah (may Allah be well pleased with him) also mounted, and I was riding behind Abu Hadrat Talhah. The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) rode swiftly through the lanes of Khaibar, and my knee would touch the blessed thigh of the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). Then his lower garment shifted from his blessed thigh until I could see the whiteness of the blessed thigh of the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). When he entered the settlement, he proclaimed, 'Allahu Akbar! Khaibar is destroyed. Indeed, when we descend in the courtyard of a people, evil is the morning of those who were warned.' He said this three times. The people of Khaibar came out for their work and cried out, 'Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him has come)!' Abdul-Aziz said some narrators also added the word 'and the army.' We conquered it by force, and the captives were gathered. Hadrat Dihyah (may Allah be well pleased with him) came and said, 'O the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) of Allah, grant me a slave girl from the captives.' He (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'Go and take a slave girl.' He took Hadrat Safiyyah bint Huyayy. A man came to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and said, 'O the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) of Allah, you have given Dihyah Hadrat Safiyyah bint Huyayy, the chief lady of Quraizah and al-Nadir — she is suitable only for you.' He (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'Call him with her.' When the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) saw her, he said, 'Take any slave girl from the captives other than her.' Then the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) set her free and married her. Thabit (may Allah's mercy be upon him) asked Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him), 'O Abu Hamzah, what was her dowry?' He replied, 'Her freedom itself was her dowry — he freed her and married her.' On the journey, Hadrat Umm Sulaim (may Allah be well pleased with her) prepared her as a bride and presented her to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) at night. In the morning, the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was a bridegroom and stated, 'Whoever has anything (of food), let him bring it.' He spread out a leather sheet, and people brought dates and butter — the narrator said he thinks Hadrat Anas also mentioned barley meal — and they made hais (a mixture of dates, butter, and barley meal), and that was the wedding feast of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).
اردو ترجمہ
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم غزوہ خیبر کے لیے تشریف لے گئے۔ ہم نے وہاں نماز فجر اندھیرے میں ہی ادا کی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی سوار ہوئے اور میں حضرت ابوطلحہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کی گلیوں میں اپنی سواری دوڑائی اور میرا گھٹنا نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک ران سے چھو جاتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک ران سے تہبند ہٹ گیا یہاں تک کہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک ران کی سفیدی دیکھ رہا تھا۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بستی میں داخل ہوئے تو ارشاد فرمایا اللہ اکبر! خیبر تباہ ہو گیا۔ بے شک جب ہم کسی قوم کے صحن میں اتر پڑتے ہیں تو ڈرائے ہوؤں کی صبح بری ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا۔ خیبر کے لوگ اپنے کاموں کے لیے نکلے تو پکار اٹھے محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے)۔ عبدالعزیز نے کہا کہ بعض ساتھیوں نے لشکر کا لفظ بھی نقل کیا۔ پھر ہم نے خیبر کو بزور جنگ فتح کیا اور قیدی جمع کیے گئے۔ حضرت دحیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور عرض کیا یا نبی اللہ! قیدیوں میں سے مجھے ایک باندی عنایت فرمائیے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جاؤ کوئی باندی لے لو۔ انہوں نے صفیہ بنت حیی کو لے لیا۔ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا نبی اللہ! آپ نے دحیہ کو صفیہ بنت حیی عنایت فرمائیں جو قریظہ اور نضیر کے سرداروں کی بیٹی ہیں، وہ تو صرف آپ ہی کے شایان شان ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دحیہ کو صفیہ کے ساتھ بلاؤ۔ وہ انہیں لے کر آئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا ان کے علاوہ قیدیوں میں سے کوئی اور باندی لے لو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اُمّ المؤمنین صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آزاد فرما دیا اور ان سے نکاح فرما لیا۔ ثابت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا کہ ابوحمزہ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مہر کیا دیا؟ انہوں نے فرمایا ان کی آزادی ہی ان کا مہر تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں آزاد کیا اور نکاح فرمایا۔ راستے میں حضرت اُمّ سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا (انس کی والدہ) نے انہیں دلہن بنایا اور رات کو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ صبح نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم دولہا تھے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کے پاس کچھ (کھانے کی چیز) ہو وہ لائے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چمڑے کا دسترخوان بچھایا۔ کوئی کھجوریں لایا، کوئی گھی۔ عبدالعزیز نے کہا کہ میرا خیال ہے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ستو کا بھی ذکر فرمایا۔ پھر سب نے حیس بنایا (کھجور، گھی اور ستو ملا کر) اور یہی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ولیمہ تھا۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (5)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحیح مسلم
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزَا خَيْبَرَ ق…
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزَا خَيْبَرَ، فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلاَةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ، فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ، وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ، فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ، وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ حَسَرَ الإِزَارَ عَنْ فَخِذِهِ حَتَّى إِنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ". قَالَهَا ثَلاَثًا. قَالَ وَخَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ ـ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا ـ وَالْخَمِيسُ. يَعْنِي الْجَيْشَ، قَالَ فَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً، فَجُمِعَ السَّبْىُ، فَجَاءَ دِحْيَةُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ. قَالَ " اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً ". فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ، لاَ تَصْلُحُ إِلاَّ لَكَ. قَالَ " ادْعُوهُ بِهَا ". فَجَاءَ بِهَا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ غَيْرَهَا ". قَالَ فَأَعْتَقَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَتَزَوَّجَهَا. فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ يَا أَبَا حَمْزَةَ، مَا أَصْدَقَهَا قَالَ نَفْسَهَا، أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَرُوسًا فَقَالَ " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَىْءٌ فَلْيَجِئْ بِهِ ". وَبَسَطَ نِطَعًا، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ ـ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَدْ ذَكَرَ السَّوِيقَ ـ قَالَ فَحَاسُوا حَيْسًا، فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
It is narrated from Hadrat Anas bin Malik (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) set out for the expedition of Khaibar. We offered the Fajr prayer there in the early darkness. Then the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) mounted his ride, and Hadrat Abu Hadrat Talhah (may Allah be well pleased with him) also mounted, and I was riding behind Abu Hadrat Talhah. The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) rode swiftly through the lanes of Khaibar, and my knee would touch the blessed thigh of the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). Then his lower garment shifted from his blessed thigh until I could see the whiteness of the blessed thigh of the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). When he entered the settlement, he proclaimed, 'Allahu Akbar! Khaibar is destroyed. Indeed, when we descend in the courtyard of a people, evil is the morning of those who were warned.' He said this three times. The people of Khaibar came out for their work and cried out, 'Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him has come)!' Abdul-Aziz said some narrators also added the word 'and the army.' We conquered it by force, and the captives were gathered. Hadrat Dihyah (may Allah be well pleased with him) came and said, 'O the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) of Allah, grant me a slave girl from the captives.' He (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'Go and take a slave girl.' He took Hadrat Safiyyah bint Huyayy. A man came to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and said, 'O the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) of Allah, you have given Dihyah Hadrat Safiyyah bint Huyayy, the chief lady of Quraizah and al-Nadir — she is suitable only for you.' He (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'Call him with her.' When the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) saw her, he said, 'Take any slave girl from the captives other than her.' Then the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) set her free and married her. Thabit (may Allah's mercy be upon him) asked Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him), 'O Abu Hamzah, what was her dowry?' He replied, 'Her freedom itself was her dowry — he freed her and married her.' On the journey, Hadrat Umm Sulaim (may Allah be well pleased with her) prepared her as a bride and presented her to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) at night. In the morning, the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was a bridegroom and stated, 'Whoever has anything (of food), let him bring it.' He spread out a leather sheet, and people brought dates and butter — the narrator said he thinks Hadrat Anas also mentioned barley meal — and they made hais (a mixture of dates, butter, and barley meal), and that was the wedding feast of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم غزوہ خیبر کے لیے تشریف لے گئے۔ ہم نے وہاں نماز فجر اندھیرے میں ہی ادا کی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی سوار ہوئے اور میں حضرت ابوطلحہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کی گلیوں میں اپنی سواری دوڑائی اور میرا گھٹنا نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک ران سے چھو جاتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک ران سے تہبند ہٹ گیا یہاں تک کہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک ران کی سفیدی دیکھ رہا تھا۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بستی میں داخل ہوئے تو ارشاد فرمایا اللہ اکبر! خیبر تباہ ہو گیا۔ بے شک جب ہم کسی قوم کے صحن میں اتر پڑتے ہیں تو ڈرائے ہوؤں کی صبح بری ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا۔ خیبر کے لوگ اپنے کاموں کے لیے نکلے تو پکار اٹھے محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے)۔ عبدالعزیز نے کہا کہ بعض ساتھیوں نے لشکر کا لفظ بھی نقل کیا۔ پھر ہم نے خیبر کو بزور جنگ فتح کیا اور قیدی جمع کیے گئے۔ حضرت دحیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور عرض کیا یا نبی اللہ! قیدیوں میں سے مجھے ایک باندی عنایت فرمائیے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جاؤ کوئی باندی لے لو۔ انہوں نے صفیہ بنت حیی کو لے لیا۔ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا نبی اللہ! آپ نے دحیہ کو صفیہ بنت حیی عنایت فرمائیں جو قریظہ اور نضیر کے سرداروں کی بیٹی ہیں، وہ تو صرف آپ ہی کے شایان شان ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دحیہ کو صفیہ کے ساتھ بلاؤ۔ وہ انہیں لے کر آئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا ان کے علاوہ قیدیوں میں سے کوئی اور باندی لے لو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اُمّ المؤمنین صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آزاد فرما دیا اور ان سے نکاح فرما لیا۔ ثابت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا کہ ابوحمزہ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مہر کیا دیا؟ انہوں نے فرمایا ان کی آزادی ہی ان کا مہر تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں آزاد کیا اور نکاح فرمایا۔ راستے میں حضرت اُمّ سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا (انس کی والدہ) نے انہیں دلہن بنایا اور رات کو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ صبح نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم دولہا تھے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کے پاس کچھ (کھانے کی چیز) ہو وہ لائے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چمڑے کا دسترخوان بچھایا۔ کوئی کھجوریں لایا، کوئی گھی۔ عبدالعزیز نے کہا کہ میرا خیال ہے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ستو کا بھی ذکر فرمایا۔ پھر سب نے حیس بنایا (کھجور، گھی اور ستو ملا کر) اور یہی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ولیمہ تھا۔